جمعہ. مئی 20th, 2022

چترال(محکم الدین) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں عبد الطیف، اسرار صبور، حاجی فرید، تقدیرہ خان رضا خیل، زاہدہ شاہ سنگین اور بڑی تعداد میں پارٹی ورکرز نے سول سو سائٹی کے نمائندگان نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 4 فروری سے 27 مارچ تک بلدیاتی انتخابات کے دوران چترال کے موسمی حالات اجازت نہیں دیتے کیونکہ ان مہینوں میں بارشوں، برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور برف کے تودے گرنے کے شدید خطرات ہیں جسکی وجہ سے الیکشن کا انعقاد صحیح معنوں میں انجام پانا ممکن نہیں ہے۔ خصوصا دشوار گزار وادیوں میں عمر رسیدہ بزرگ افراد اور خواتین کا پولنگ کیلئے گھروں سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان چترال کے سخت موسمی حالات کے تناظر میں بلدیاتی الیکشن کو ماہ رمضان کے بعد تک ملتوی کرنے کے احکامات صادر کرے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبد الطیف نے اسلام آباد سے فون پر بات کرتے ہوئے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے حوالے سے ایک پٹیشن فائل کی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے استدعا کی گئی ہے کہ انتہائی سخت موسمی حالات کی وجہ سے مارچ میں انتخابات ممکن نہیں، لہذا تاریخ ملتوی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ وقت بہت محدود تھا اس لئے ہمیں یہ قدم عجلت میں اٹھانا پڑا گو کہ میں نے اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت اور جماعت اسلامی چترال سے رابطے کئے تھے لیکن انتظار کے باوجود ان کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں آیا،اس لئے یہ قدم اٹھانے پر ہم مجبورہوئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان تحریک انصاف کا نہیں بلکہ چترال کے سول سوسائٹی کا مطالبہ تھاکہ الیکشن ملتوی کئے جائیں اور یہ صرف چترال کا نہیں بلکہ دیر اپر دیر لوئر اور سوات وغیرہ میں بھی الیکشن ملتوی کرنے کی آوازیں سنی جارہی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ سخت موسم ہے۔
اس حوالے سے قیم جماعت اسلامی چترال وجیہہ الدین نے کہا کہ جماعت اسلامی کا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخ پر 27مارچ کو ہی منعقد کئے جانے چائیں کیونکہ یہ الیکشن کیلئے بالکل موزون وقت ہے اور ہم اس کی مکمل تیاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پی ٹی آئی چترال کے اندرونی اختلافات سنگیں صورت اختیار کر چکے ہیں، پارٹی ڈواں ڈھول ہو چکی ہے اور بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں توقعات والے سٹیشنز میں پی ٹی آئی صوبے میں بری طرح شکست کھا چکی ہے۔ ان کی پہلی کوشش ویلج کونسل سطح پر غیر جماعتی الیکشن کرانے کا تھاجو مسترد ہو چکی ہے اور ان کو یقین ہے کہ ویلج سطح پر وہ امیدوار ہی کھڑے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یوں یقینی ناکامی کی پیش بندی کیلئے الیکشن ملتوی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شاید ان کو ہلکی امید ہوکہ ماہ رمضان کے بعد ان کو کچھ فنڈ ملیں اور وہ فنڈ کے بل بوتے پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوسکیں لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بھی جماعت اسلامی سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی صدر انجینئر فضل ربی جان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس امر کا اظہار کیاکہ پاکستان پیپلز پارٹی بلدیاتی الیکشن کو ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر دیکھتی ہے اور ملاکنڈ میں پارٹی الیکشن کیلئے تیار ہے۔ ایسے میں اگر ہم چترال میں الیکشن کے التوا کی بات کریں۔ تو سیاسی طور پر یہ نامناسب ہے۔ اور ہماری بات بھی نہیں سنی جائے گی۔ صرف چترال کی بات کرنے سے موقف بہت کمزور ہوگا۔ انہوں نے کہا۔ میری ذاتی رائے میں مارچ کی بجائے ماہ رمضان کے بعد الیکشن کرنا بہتر ہے۔ لیکن یہ پارٹی کا موقف نہیں ہے۔ اور ہمیں پارٹی کے موقف کو ہر صورت فالو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ رہنما پی ٹی آئی عبدالطیف نے ان سے اس حوالے سے بات کی تھی۔ لیکن پارٹی کے موقف پر عمل کرنا میرے لئے لازمی ہے۔
جمیعت العلماء اسلام چترال کے ترجمان قاری نسیم نے جماعت کی حتمی رائے سے ضلعی کابینہ کی مشاورت کے بعد ہی آگاہ کرنے کا اظہار کیا تاہم انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کا موقف بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی حمایت میں رہا ہے لیکن جماعت کی کابینہ کی رائے حتمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش رہی ہے کہ انتخابات نہ ہوں کیونکہ پی ٹی آئی اب عوام کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہی ہے اس لئے مختلف طریقوں سے الیکشن سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔