جمعرات. اگست 11th, 2022


پشاور(چ،پ) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کے طور پر صوبے کے تین سیاحتی مقامات کو انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کا درجہ دینے کی منظوری دیدی ہے جن میں گھنول مانسہرہ، مانکیال سوات اور مداکلشٹ چترال شامل ہیں۔
یہ منظوری گذشتہ روز وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ ٹوارزم سٹرٹیٹجی بورڈکے پہلے اجلاس میں دی گئی جسے حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، اشتیاق ارمڑ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور بورڈ کے دیگر اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کو مذکورہ انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونزکے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مانسہرہ میں گھنول انٹگریٹڈ ٹوارزم زون 489 کنال جبکہ سوات میں منکیال450 اور لوئر چترال میں مداکلشت انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز500 کنال رقبے پر محیط ہوں گے۔
ان انٹگریٹڈٹوارزم زونز کیلئے زمین کی خریداری کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور متعلقہ زمین پر سیکشن فور بھی نافذ کردیا گیا ہے۔
ایبٹ آباد میں ٹھنڈیانی میں بھی انٹگریٹڈ ٹوارزم زون کے قیام کیلئے موزوں جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے جسے ضروری کاروائی مکمل کرنے کے بعد انٹگریٹڈ ٹوارزم زون کادرجہ دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے ماسٹر پلانز پہلے ہی سے تیار کئے گئے ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں ان ٹوارزم زونزکے مینجمنٹ پلان تیار کئے جائیں گے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یہ انٹگریٹڈ ٹوارزم زونزبیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے بین الاقوامی نمائش دوبئی ایکسپو 2020 میں پیش کئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کے دوران متعلقہ حکام کوہدایت کی ہے کہ ان انٹگریٹڈ ٹوارزم زونزکی ریگولیشنز کی تیار ی کا سارا عمل دو ماہ کے اندر اندر مکمل کرکے منظوری کیلئے پیش کیا جائے۔
اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ انٹگریٹڈ ٹوارزم زونزمیں جنگلات اور دریاؤں سمیت قدرتی ماحول کے مکمل تحفظ کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے جبکہ انٹگریٹڈ ٹوارزم زونزکے مینجمنٹ پلان کی تیار ی کاعمل بھی جلدازجلد مکمل کیا جائے تاکہ ان زونز پر بلا تاخیر عملی کام کا آغاز کیا جا سکے۔
اُنہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے میں سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی مضبوط ہو گی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔