جمعرات. جون 30th, 2022

چترال(محکم الدین)آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام یوپین یونین کے تعاؤن سے ایل ایس او یوتھ کنونشن چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں مردو خواتین یوتھ، ایل ایس اوز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کنونشن سے چترال کے معروف ڈاکٹر اور ڈی ایچ او چترال فیاض رومی، ڈاکٹر منصوراللہ بیگ منیجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ چترال یونیورسٹی، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر چترال فاروق اعظم، سابق آئی ڈی منیجر اے کے آر ایس پی فضل مالک و دیگر نے کووڈ 19 کی وجہ سے لوگوں اور یوتھ کی تعلیم، صحت اور روزگارپرپڑنے والے اثرات کے حوالے سے خطاب کیا۔ریجنل پروگرام منیجر اے کے آر ایس پی فرید احمد نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کنونشن کے انعقاد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کویڈ 19 کی وجہ سے گذشتہ سال کنونشن منعقد کرناممکن نہیں تھا اور احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی بھی بڑے اجتماع سے گریز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ چترال میں گذشتہ دو سالوں کے دوران کووڈ کے باعث کوئی بڑا سانحہ پیش نہیں آیا لیکن یہ بات واضح ہے کہ کوووڈ کی وجہ سے یوتھ کی تعلیم، ہنر اور روزگاربری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ یوتھ کیلئے خوشی کا مقام ہے کہ ان کے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے یورپین یونین نے اے کے آر ایس پی کے تیار کردہ پروپوزل کو منظور کیا ہے اور ان کے تعاؤن سے اے کے آر ایس پی کئی شعبوں میں یوتھ کو سپورٹ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے تاہم نوجوانوں کی دلچسپی اور بھر پور تعاون سے ہی ان پراجیکٹس سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔،س لئے با صلاحیت لوگ آگے آ کر موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ڈی ایچ او چترال فیاض رومی نے کووڈ 19 پر بات کرتے ہوئے شرکاء پر زور دیاکہ اب بھی یہ بیماری مختلف بھیس بدل کر لوگوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، اس لئے اب بھی ایس او پیز پر عملدر آمد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں اموات کے شرح کی کمی کی وجہ بڑی تعداد میں قرنطینہ سنٹرز کا قیام اور احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد ہے تاہم بڑی تعداد میں یوتھ کی نادرا میں رجسٹریشن اور فارم ب نہ ہونے کی وجہ سے ویکسنیشن نہیں کی گئی ہے،ان کے علاوہ ویکسنیشن سے انکار کرنے والوں کی بھی کافی تعداد موجود ہے۔ ڈی ایچ او نے کہا کہ یورپ میں اموات کی تعداد اس لئے زیادہ ہے کہ ایک تو وہاں اولڈ ہاوسز میں رہائش پذیر ضعیف العمر افراد ایک ساتھ رہتے ہیں اس لئے وائرس کی منتقلی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ ممالک ریکارڈ سو فیصد صحیح رکھتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ریکارڈ رکھنے میں بہت کمی ہے۔ کنونشن میں ڈاکٹر منصور اللہ بیگ نے آن لائن بزنس کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی اور کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور سکلز کے ذریعے گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اگر آگے آئیں تو آن لائن بزنس کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس سلسلے میں وہ نوجوانوں کی ہر ممکن مدد بھی کر سکتے ہیں۔ سابق آئی ڈی منیجر فضل مالک نے کہا کہ بدلتے حالات کے ساتھ صلاحیتیں بڑھائے اور سکل کے حصول کے بغیر ترقی کا خواب شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نوجوان صرف ملازمتوں کی آس لگانے کی بجائے ہر اس کام کیلئے میدان میں اتریں جس میں آمدنی کے مواقع نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کو سپورٹ کریں اور آمدنی میں ہاتھ بٹائیں۔ ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر چترال فاروق اعظم نے یوتھ پر زور دیاکہ وہ کھیلوں میں اپنی صلاحیتیں منوا کر روزگار حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چترال کے نوجوانوں میں تمام کھیلوں کی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں اور موجودہ وقت میں سپورٹس ایک انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے اس لئے یوتھ سپورٹس کو اپنامشن بنائیں اور علاقے کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عزت اور روزگار دونوں حاصل کرنے کی جدو جہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی گیموں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کھیل کی دنیا صرف فٹبال اور کرکٹ تک محدود نہیں ہے،چترال میں سپورٹس کملیکس کی تعمیر کے بعد یہاں تمام کھیلوں میں کھلاڑی اپنا لوہا منوائیں گے اور چترال اپنی امن پسندی، مہمان نوازی، قدیم کلچر وسیاحت کے ساتھ ساتھ سپورٹس کے حوالے سے پہچان پیدا کریگا۔