بدھ. جون 29th, 2022

چترال(گل حماد فاروقی) برفانی چیتا بھوک سے نڈھال ہوکر مجبوراً آبادی کا رخ کر لیا اور مقامی شخص کے مال مویشیوں کا شکار کیا۔ تفصیلات کے مطابق اپر چترال میں مستوج کے گاؤں چنار میں برفانی چیتے نے مقامی شخص مسمی سید انوار ولد ابو سعید خان کے مویشی خانے میں موجود مویشیوں پر حملہ کرکے مویشیوں کو ہلا ک کر دیا۔ہمارے نمائندے سے فون پر بات کرتے ہوئے سید انور نے بتایا کہ پچھلے سال بھی برفانی چیتے نے ان کے مویشی خانے پر حملہ کرکے 9 عدد بکریوں کو ہلاک کیا تھا مگر ابھی تک محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ سید انور نے مزید بتایا کہ ہمیں محکمہ جنگلی حیات والوں نے بتایا تھا کہ اگر قریبی جنگل یا پہاڑی سے کوئی جنگلی جانور نیچے اتر کر مال مویشیوں کو نقصان پہنچائے تو جنگلی جانور کو ہلاک نہیں کرنا، ہم نے ا ن کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور جنگلی جانور کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں،امسال ایک بار پھر برفانی چیتا نیچے اتر کر ان کے مویشی خانہ میں داحل ہوگیا اور ان کو چھ بکریوں پر حملہ کیا جن میں سے پانچ ہلاک جبکہ ایک شدید خمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے باقاعدہ مستوج کے محکمہ جنگلی حیات کے رینج آفیسر کو اطلاع دی تھی اورامداد کیلئے تحریری درخواست بھی دی تھی مگر ابھی تک ہمیں کچھ بھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کا رینج آفیسر موقع پر آکر مردہ بکریوں اور برفانی چیتے کی پاؤ ں کی نشان کی تصاویر اتار کر اپنے افسران بالا کو ارسال کیا تھا۔
اسی علاقے میں دوسرے لوگوں کی مال مویشی کو بھی برفانی چیتے نے نقصان پہنچا یا تھا مگر کسی کو بھی کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محکمہ جنگلی حیات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر الطاف احمد سے بھی ملاقات کرکے انہیں درخواست پیش کیا مگر انہوں نے بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں ویلیج کنزریشن کمیٹی نہیں ہے اسلئے ایسے متاثرین کو کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ہمارے نمائندے نے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لایف سے خود بھی فون پر بات کی جنہوں نے تصدیق کیاکہ فی الحال ہمارے پاس اس مد میں کوئی فنڈ نہیں ہے جس سے ایسے لوگوں کے ساتھ ہم مالی طور پر مدد کرے جن کی مال مویشی برفانی چیتا یا کوئی اور جنگلی جانور کھالے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے افسران بالا کو یہ کیس بھیجا ہوا ہے اور سفارش بھی کی ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی مالی مدد ہونا چاہئے۔
سید انور نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور محکمہ جنگلی حیات کے ارباب احتیار سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال چونکہ ایک پسماندہ ضلع ہے اور یہاں اکثر و بیشتر جنگلی حیات بھوک سے نڈھال ہوکر آبادی کا رخ کرتے ہیں اور اپنا بھوک مٹانے کیلئے لوگوں کے پالتو جانوروں کو کھاتے ہیں جس سے لوگوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر مقامی لوگ ان جانوروں کو اس امید پر نہیں مارتے کہ ان کو معاوضہ دیا جائے گا اب اگر ان کو معاوضہ ہی نہیں ملتا تو پھر ان جنگلی حیات کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔