جمعرات. اگست 11th, 2022

دروش(چ،پ) دروش چوک میں گذشتہ پندرہ دنوں سے دو نوجوان دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں جنکا موقف ہے کہ محکمہ جنگلات میں ملازمین کی تعیناتی کے دوران انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور انہیں انکے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل دروش کے گاؤں دمیل سے تعلق رکھنے والے محمد اسلم اور نگر سے تعلق رکھنے والے جمشید احمد نے محکمہ جنگلات کے ڈی ایف او کے خلاف دروش چوک میں دھرنا دیا ہوا ہے جو کہ دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمے کا ڈی ایف او عدالتی احکامات کی پابندی بھی نہیں کر رہا ہے اور دانستہ طور پر ہمیں ہمارے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قبل جب ہم دروش میں دھرنا پر بیٹھے تھے تو اسوقت ایم این اے چترال نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا جائز مطالبہ پورا کیا جائے گا مگر اسکے بعد ابھی تک ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور ہمیں مجبوراً دھرنا دینا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تادم مرگ دھرنا دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اگر ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اسکی ذمہ داری ڈی ایف او محکمہ جنگلات پر عائد ہوگی، کیونکہ انہوں نے محکمے میں غیر قانونی بھرتیاں کرکے حقداروں کو محروم رکھا ہوا ہے۔
دھرنے پر بیٹھے ہوئے افراد نے ایم این اے، ایم پی اے اور معاؤن خصوصی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں۔
درایں اثناء منگل کے روز دھرنے میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کی حالت بگڑنے سے انہیں طبی امداد کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔