120

معروف ادیب، دانشور اور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی پر محمد جاویدحیات کی لکھی ہوئی کتاب ”ہمارے استاد جی”کی تقریب رونمائی

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال کے معروف ادیب، دانشور اور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی ادب سمیت مختلف شعبوں میں خدمات کے تذکرے پر مبنی محمد جاویدحیات کی لکھی ہوئی کتاب ”ہمارے استاد جی”کی تقریب رونمائی اتوار کے روز منعقد ہوئی جس کی سابق تحصیل ناظم امیر خان میر نے صدارت کی جبکہ ڈویژنل فارسٹ افیسر چترال فرہاد علی مہمان خصوصی تھے۔اپنے خطاب میں امیر خان میر نے ڈاکٹر فیضی کو کثیر الجہت شخصیت قرار دیتے ہوئے کہاکہ کھوار زبان وادب کی ترقی کے لئے ان کی طرف سے انجام دئیے گئے خدمات قابل تعریف ہیں جس نے انجمن ترقی کھوار کو اس مقصد کے لئے نہایت موثر پلیٹ فارم میں بدل دی۔ انہوں نے کتاب کے مصنف کی کاوشوں کو داد دیتے ہوئے کہاکہ اس نے ڈاکٹر فیضی کی شخصیت اور ان کے کارہائے نمایان کو کتابی شکل میں لاکر یہ ثابت کردیا کہ چترال میں علم وادب کے لئے کام کرنے والوں کو بہت اعلیٰ وارفع مقام دیا جاتا ہے اور کسی علاقے میں زبان وادب کی ترقی کے لئے ایسی کوششیں قابل تقلید ہوتی ہیں۔ ڈی ایف او فرہاد علی نے مقامی ادیبوں پر زور دیاکہ وہ اپنی تحریروں میں ماحولیاتی مسائل کو اُجاگر کرکے اس سیارے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں جسے کئی اقسام کی خوفناک مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگلات کو بچاکر ہی ہم اس تباہی سے زمین کو بچاسکتے ہیں اور جنگلات کی اہمیت کو عام لوگوں میں جاگزیں کرنے میں ادیب، شاعر اور دانشور اہم اور حساس کردار کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور مصنف محمد جاوید حیات کے علاوہ عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ، محمد خالد، محمد شفیع شفا، صالح ولی آزاد، صلاح الدین صالح اور ظہیر الدین نے خطاب کرتے ہوئے کتاب پر تبصر ہ پیش کیا اور کہاکہ اس کتاب میں ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو اُجاگر کیا گیا ہے اور ان کی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جوکہ کھوار زبان وادب کی تاریخ کا ایک انمول حصہ اختیار کرے گا۔تقریب میں کثیر تعداد میں سول سوسائیٹز سے تعلق رکھنے والے حضرات سمیت مختلف کالجز کے پروفیسرزشعرا ادبا اور انجمن ترقی کھوار کے مرکزی صدر کے علاوہ انجمن کے ارکان اور ممبران موجود تھے۔