68

چھ سال گزر نے کے باوجود شوغور آر سی سی پل مکمل نہیں ہو سکا، فنڈز دستیاب نہیں، ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا

چترال(گل حماد فاروقی)2015 کے تباہ کن سیلاب نے جہاں پورے ضلعے کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہاں شوغور کے مقام پر دریاے لٹکوہ پر لکڑیوں کا ایک جھولا پل بھی تباہ ہوا تھا، اس کے بعد محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس C&W نے ایف ڈبلیو او کے ذریعے یہاں عارضی طور پر لوہے کا پل تعمیر کیا مگر وہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کی بار بار مرمت کی جاتی ہے۔ عوام کے پر زور مطالبے پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے ایک آر سی سی پل کی تعمیر کا کام شروع کیا،متعلقہ ٹھیکیدار نے ایک طرف فاؤنڈیشن اور پانچ عدد گارڈر بھی بنائے ہیں مگر کام ابھی تک ادھور ا ہے۔اس پل پر 13000 کی آبادی کا دار و مدار ہے۔ اسی پل سے اشیاء ضروریہ کی نقل و حمل ہوتی ہے، زرعی اجناس سبزی وغیری مارکیٹ تک پہنچائے جاتے ہیں مگر پل کی خستہ حالی کی وجہ سے اس پر ٹرک یا بھاری گاڑی نہیں گزر سکتے ہیں۔ کریم آباد ڈیویلپمنٹ مومنٹ کے ترجمان عیسیٰ خان نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ان کا دعویٰ تھا کہ ہم تبدیلی لارہے ہیں جس پر عوام بھی خوش تھی کہ اب کرپشن ختم ہوگا اور تمام محکمے صحیح کام کریں گے مگر ہم نے تبدیلی تو نہیں دیکھا البتہ تباہی ضرور دیکھ لیا کیونکہ چھ سال میں اگر ایک پل تیار نہیں ہوتا تو اسے ہم کونسی تبدیلی کا نام دے۔
مقامی باشندے نے حبیب اللہ نے بتایا کہ اس پل کو سیلاب نے تباہ کیا تھا اس کے بعد پاک فوج نے صوبائی حکومت کی فنڈ سے عارضی پل بنایا جوکہ بھاری ٹریفک کی وجہ سے خراب ہوا اور اسے ہر سال مرمت کرتے ہیں، پھر آر سی سی پل پر کام شروع ہوا مگر ابھی تک مکمل نہ ہوسکا۔ انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے مطالبہ کیا کہ اس پل کو فوری طور پر مکمل کرے تاکہ عوام کی مشکلات کی کمی آسکے۔رحمان علی شاہ جو اس علاقے کا سماجی کارکن ہے انہوں نے بتایا کہ اس پل کی حالت نہایت خستہ ہے اور مجھے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پر نہایت افسوس ہوتا ہے کہ ان کی نا اہلی کی وجہ سے چھ سال میں بھی ایک پل تک نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے ہولی حالی نعروں سے بہت خوش تھے کہ کرپشن فری پاکستان ہوگا مگر یہ کرپشن فری تو نہیں بلکہ کرپشن سے بھرا پاکستان بنا دیا۔ ان کے سارے دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں اور عوام کو ایک نئے عذاب میں مبتلا کردیا۔مقامی لوگوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومتی لوگوں سے تو ہمیں کوئی امید نہیں البتہ اعلیٰ عدلیہ اگر اس پر از خود نوٹس لیکر محکمے کے خلاف قانونی کاروائی کرے تو ہوسکتا ہے کہ ان کو شرم آئے اور اس پل کو تعمیر کرے۔ نہوں نے کہا کہ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ ہم کرپشن فری پاکستان بنا رہے ہیں یہ تو کرپشن فری نہیں بلکہ کرپشن مزید بڑھ گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پل کو جلد سے جلد بنائے ورنہ عوام احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنے پر مجبور ہونگے۔
اس سلسلے میں جب محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجینئر سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس پل کیلئے فنڈ ختم ہوچکا ہے تاہم انہوں نے صوبائی حکومت سے مزید فنڈ کا مطالبہ کیا ہے جونہی فنڈ منظور ہوگا تو اس پل پر کام شروع کرکے اسے مکمل کیا جائے گا۔
علاقے کے لوگ تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ شوغوور آر سی سی پل کے لئے جلد از جلد فنڈ جاری کرکے اسے مکمل کیا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو سفری مشکلات سے نجات مل سکے بصورت دیگر عوام احتجاج کے لئے میدان میں نکلیں گے۔