بدھ. ستمبر 28th, 2022


چترال(گل حماد فاروقی) سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس (AGEGA) نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالا اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے جلسہ منعقد کیا۔ اگیگا یعنی آل گورنمنٹ ایمپلائز گرانڈ الائنس کے ضلعی صدر امیر الملک کے سربراہی میں یہ ریلی ہسپتال روڈ سے شروع ہوا اور شاہی بازار اور اتالیق چوک سے گزرتا ہوا ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے جلسہ کی شکل اختیار کیا، اس موقع پر شرکاء احتجاج نے راستے میں نعرہ بازی بھی کی اور صوبائی وزیر اعلیٰ محمود خان کو جھوٹا وزیرا علیٰ قراردیا کہ انہوں نے اعلان تو کیا تھا مگر اپنے وعدے کو ایفا نہیں کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر امیر الملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کا سرد اور گرم موسم کے چارجز کو سرے سے ختم کئے ہیں اور فائیر ووڈ یعنی جلانے کی لکڑی کے الاؤنس میں کٹوتی کی ہے جو کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو ظالمانہ نوٹیفیکیشن ملاکنڈ ڈویژن میں جاری کیا ہے یہ ملازمین کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے،یہ نوٹیفیکیشن 1943 سے لیکر 2021 تک ایک مستقل الاؤنس کے طور پر ملتا تھا اب موجودہ حکومت نے سرے سے اس الاونس کو ختم کیا ہے۔ یہاں موسم سرما میں منفی چار تک درجہ حرارت گرتا ہے جبکہ سرکاری ملازمین آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں، اس دوران وہ اپنی قلیل تنخواہ میں جلانے کی لکڑی اپنے لئے خریدیں یا اپنے بچوں کا پیٹ پالیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے یہ ظالمانہ نوٹیفیکیشن واپس نہیں لیا تو اس کے برے نتائج رونما ہوں گے۔ انہوں نے چھ دسمبر تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس تاریخ تک اس نوٹیفیکیشن کو ختم کیا جائے ورنہ سرکاری ملازمین اس کے بعد نہ صرف قلم چھوڑ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے بلکہ وہ اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے امیر الملک نے کہا کہ موجودہ دور میں مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ غریب ملازمین بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی اور تعلیم دے سکتا ہے اگر یہ ملازمین اسی تنخواہ میں سے دفتر میں جلانے کیلئے اپنے جیب سے لکڑی خریدیں تو ان کو کیا بچے گا۔ انہوں نے انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اعلامیہ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور سرکاری ملازمین کا پرانا گرم اور سرد موسم کی چارجز اور فائر ووڈ الاؤنس کو بحال کرے اور ان ملازمین کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔