بدھ. ستمبر 28th, 2022

 چترال(محکم الدین)ایون کے عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر تعلیم اور ایلیمنٹری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ یونین کونسل ایون میں سینکڑوں کی تعداد میں طالبات کو تعلیمی محرومی سے بچانے کیلئے حکومتی پالیسی کے تحت ایون گرلز ہائی سکول میں ڈبل شفٹ پروگرام شروع کیا جائے۔ علاقے کے عمائدین سابق ناظم یونین کونسل ایون رحمت الٰہی، سابق ممبر یونین کونسل جندولہ خان، واجب الدین، عتیق احمد اور محمد عبداللہ سمیت درجنوں افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایون وسیع آبادی والا علاقہ ہے جس کے اطراف میں بروز، گہریت اور کالاش ویلیز بمبوریت، رمبور اور بریر کی 70فیصد طالبات ہائر سکینڈری سکول نہ ہونے کے سبب ڈراپ آوٹ ہورہی ہیں کیونکہ اس علاقے کے اطراف میں 45 کلومیٹر کی حدود میں کوئی ہائر سکینڈری سکول نہیں ہے جہاں داخلہ لے کر یہ طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اس لئے بچیوں کو مجبورا تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑ تی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایون گرلز ہائی سکول حکومت کے ڈبل شفٹ پروگرام کے معیار پر سو فیصد پورا اترتاہے کیونکہ یو سی ایون اور ملحقہ علاقوں کی آبادی 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے لیکن گرلز ہائر سکینڈری سکول سے محروم ہے اس لئے ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے پر زور مطالبہ ہے کہ حکومت کے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے فوری طور پر سکول کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے علاقے کی واحد گرلز ہائی سکول کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سکول میں انرولمنٹ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے کمروں کی شدید کمی ہے، اس لئے کویڈ 19 اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے خوف کے ماحول میں کلاس رومز میں طالبات کی زیادہ تعداد خطرے سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ آٹانی، موڑدہ، تھوڑیاندہ، بڑاوشٹ، دالگرام وغیرہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی طالبات کیلئے گرلز مڈل سکول پہنچنا بھی ایک بڑامسئلہ ہے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد روزانہ تین سے پانچ کلومیٹر پیدل یکطرفہ سفر کرکے ان طالبات کو ہائی سکول پہنچنا پڑتا ہے اور شدید باد و باران کے دوران ان کی مشکل اوربھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے والدین کو میٹرک کے بعد اپنی بچیوں کو چترال اور دوسرے شہروں میں تعلیم کیلئے داخل کرنا ناقابل برداشت ہو چکا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کے اخراجات کا اضافی بوجھ والدین برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اسلئے ایون گرلز ہائی سکول میں ڈبل شفٹ پروگرام کے تحت طالبات کو بلاتاخیر تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے ۔ انہو ں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گرلز ہائی سکول ایون کو اپگریڈ کرکے ہائر سکینڈری سکول کا درجہ دیا جائے تاکہ دیگر سکولوں کی اپگریڈیشن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تھوڑیاندہ گرلز مڈل سکول بھی قانونی تقاضے پورے کرتا ہے اس لئے اسے بھی اپگریڈ کیا جائے اور ڈبل شفٹ پروگرام وہاں بھی شروع کیا جائے۔