273

گبور میں سابق ممبر ضلع کونسل کے ظلم و زیادتیوں سے نجات دلا یا جائے/سابق ویلج کونسل ناظم حامد خان

چترال(بشیرحسین آزاد) لوٹ کوہ کے گبور بخ سے تعلق رکھنے والے سابق ویلج ناظم حامد خان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے اپیل کی ہے کہ سابق ممبر ضلع کونسل محمد حسین کی ظلم وزیادتیوں سے ان کو نجات دلائی جائے جس سے ان کی اور خاندان والوں کی زندگی کو شدید خطرہ درپیش ہے جوکہ گبور کے علاقے میں غنڈہ گردی میں مصروف ہے اور ممنوعہ ہتھیار وں سے لیس ہو کر علاقے میں دہشت پھیلادی ہے۔انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی کہ محمد حسین علاقے میں خوف وہراس پھیلاکر اور اپنے آپ کو خفیہ ایجنسی کا اہلکار ظاہر کرکے لوگوں کو ہراسان کررہا ہیجس کی جوڈیشل انکوائری کی جائے۔جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محمد حسین کا ان کے ساتھ دشمنی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے شہزادہ آف شوغور سے گبور کے مقام پر کچھ اراضی خریدلی اور ان کی دشمنی اس وقت مزید بڑھ گئی جب میں نے حاجی فیاض اورمحمد حسین کے درمیان زمین کے تنازعے میں گرم چشمہ کے حاجی فیاض کا ساتھ دیا جوکہ حق پر تھا اورجس نے اتالیق حیدری سے زمین خرید لیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مقامی پولیس بھی ان کا ہمنوا ہوتا ہے اور محمد حسین کی طرف سے تین دفعہ مجھ اور میرے خاندان والوں پر حملہ ہونے کے بعد ان کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ہم سے گواہ طلب کئے گئے جبکہ نصف شب کو کوئی گواہ بنا کر حملہ نہیں کرتا۔ حامد خان نے کہاکہ محمد حسین اور ان کے کرائے کے غنڈوں نے پولیس کے ایک ہیڈ کنسٹیبل کے سامنے ہی مجھے دھمکی دی کہ وہ مجھے اور میرے خاندان کو ختم کراسکتا ہے اور اس سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایک شہری ہونے کے ناطے میری جان، مال اور آبرو کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور وزیر اعظم پر لازم ہے کہ اپنے شہری کو محمد حسین کی ذیادتیوں اور غنڈہ گردی سے تحفظ دلادے۔ ان کا کہنا تھاکہ محمد حسین حاجی فیاض کو بھی ان کے خرید کردہ اراضی سے محروم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ یہ بات تمام اہل علاقہ کو معلوم ہے کہ حاجی فیاض نے اتالیق حیدری سے زمین خریدنے کے بعد اسے تین سال کے لئے کرائے پر دیا لیکن چوتھے سال محمد حسین نے ان مزارعین کو ورغلاکر ان کی زمین پر قبضہ کردیا کیونکہ اس نے بھتہ دینے سے انکار کیا تھا۔