105

مصالحتی جرگے کی کوششوں سے چترال کے دو خاندانوں میں عداوت دوستی میں بدل گئی

چترال(محکم الدین)چترال سینگور سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں کے مابین شدید کشیدگی اور دشمنی جر گے کی کوششوں کے نتیجے میں دوستی میں بدل گئی اور دونوں فریقین نے گذشتہ روز شاہی بازار جامع مسجد چترال میں ایک پر وقار غیر معمولی تقریب میں آپس میں گلے مل کر عداوت ختم کرنے اور آئندہ برادرانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ ممتاز سیاسی شخصیت حافظ فضل اللہ اور معروف چلڈرن اسپشلسٹ ڈاکٹر گلزار احمد کے خاندان کے مابین عداوت کو ختم کرنے اور اسے دوستی میں بدلنے کے سلسلے میں سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل و ناظم یو سی ایون عبدالمجید قریشی، خطیب شاہی جامع مسجد چترال مولانا خلیق الزمان اور امیر جماعت اسلامی اخونزادہ رحمت اللہ نے اہم کردار ادا کیا اور ان کی پر خلوص کوششوں سے صلح کا عمل خوش اسلوبی سے انجام پائی۔ اس موقع پر صلح کے محرکیں عبد المجیدقریشی اورمولانا خلیق الزمان نے کہا کہ دونوں فریقین بااثر اور معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اختلافات پیدا ہوئے جو کہ انسانی زندگی کا حصہ ہے مگر یہ اختلافات جس نہج تک پہنچ گئے تھے وہ دونوں خاندانوں اور چترال کے پر امن فضا ء کیلئے قطعی طور پر مناسب نہیں تھا۔ اس لئے اس عداوت کو دوستی میں بدلنے کیلئے انہوں نے قدم بڑھایا اور انہیں خوشی ہے کہ دونوں فریقین نے ان پر بھر اعتماد کا اظہار کیا اور جرگہ کے ذریعے صلح کے انجام تک پہنچانے کیلئے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ صلح کو قابل عمل بنانے کیلئے اقدامات کرنے پر وہ دونوں خاندانوں اور حاضرین کی دل کی گہرائیوں سے مشکور ہیں۔ تقریب سے ممتاز سوشل ورکر عنایت اللہ اسیر نے کہا کہ چترال کے لوگ منتشر قوم بن گئے ہیں، باہر سے آئے ہوئے کلچر کے اثرات نے ہمارے پر امن ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔،چترالی اپنے بھائی چترالی کا دشمن ہو ہی نہیں سکتا، ہماری ثقافت ہمیں امن کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے اس قسم کے تنازعات کے حل کیلئے ایک اصلاحی کمیٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ سابق امیر جماعت اسلامی مولانا شیر عزیز نے کہاکہ جو لوگ اس قسم کے تنازعات حل کرنے کیلئے لوگوں کو اصلاح کی ترغیب دیتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کی بڑی قدر ہے۔ نفرت و عداوت ختم کرنے والوں کو اللہ بہت پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں قدم اٹھانے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے پر سابق ناظم عبدالمجید، مولانا خلیق الزمان اور اخونزادہ رحمت اللہ کے کردار کی تعریف کی۔ صدر محفل اخونزادہ رحمت اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دونوں خاندان ہمارے لئے قابل احترام ہیں اس لئے انکی آپس میں عداوت ذہن پر خاطر بار رہتی تھی، گو کہ اس حوالے سے پہلے بھی کوششیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ اخلاص سے کسی بھی کام میں اللہ پاک برکت ڈال دیتا ہے اور اس تنازعے کا پر امن حل محرک شخصیات کے اخلاص کا نتیجہ ہے جس کی بدولت دونوں فریقین آپس میں شیروشکر ہوگئے۔
واضح رہے کہ دو سال پہلے رات کے وقت ڈاکٹر گلزار احمد کے گھر میں اچانک آگ لگی تھی اور اس موقع پر فائر کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تھانہ چترال پولیس نے تفتیش کے بعد اس واقعے کی ذمہ داری حافظ فضل اللہ اور ان کے بیٹوں پر ڈالتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔ جس کے بعد دونوں خاندانوں میں کشیدگی بڑھی اور دشمنی تک جا پہنچی۔ تاہم حالیہ اصلاحی جرگے کی کوششوں سے یہ دشمنی دوستی میں بدل گئی۔ جسے تمام شرکاء نے سراہا ہے۔