117

پاکستان سنٹر آف ایکسلنس ریسرچ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کے زیر اہتمام چترال یونیورسٹی میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا

چترال(گل حماد فاروقی)جامعہ چترال میں طلبا ء و طالبات کیلئے پاکستان سنٹر آف ایکسلنس کی جانب سے باہمی مذاکرات پر دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد طلباء و طالبات میں برداشت، سوالات، اور بنیادی حقوق وغیرہ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔ اس حوالے سے ادارے کے پراجیکٹ منیجر فرحانہ کنول نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جو پچھلے دس سالوں سے مختلف موضوعات پر کام کررہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف جامعات کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد بچوں اور بچیوں میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینا، سوال کرنے کا اہمیت کیا ہے اور سوال پوچھنے سے ان کو کیا مل سکتا ہے کیونکہ سوال ہی کے ذریعے ان کے لئے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ فرحانہ کنول کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو دنوں میں چار سیشن (نشست) کروائے، پہلا سیشن اکوالٹی ڈایورسٹی ٹولرینس، دوسرا سیشن سماجی ہم آہنگی پر تھا، تیسرا سیشن لیڈر شپ اور موٹیویشن پر تھا جس پر صدام حسین نے شرکاء کو بریفنگ دی جبکہ آخری سیشن پیس بلڈنگ اور کانفگرنس پر تھا۔ اسی جامعہ کی ایک طالبہ نگینہ حکیم نے کہا اس سیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا کیونکہ ہمیں سماجی تصادم کے بارے میں پہلے کوئی معلومات نہیں تھی اور سماجی زندگی میں ہمیں ایک دوسرے کو برداشت اور رویوں کو مثبت بنانے کے بارے میں بہت معلومات حاصل ہوئی۔ ایک اور طالبہ نازش نے کہا کہ یہ سیشن ہمارے لئے نہایت مفید تھا اور نوجوان نسل کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اس قسم کے سیشن ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا خواتین میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی رحجان بھی عدم برداشت کا نتیجہ ہے۔ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کاملہ بی بی نے کہا کہ پہلے ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمیں کس قسم کے سوالات پوچھنے چاہئے اور ہم سماجی مسائل کو کیسے حل کروائے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ بڑھا۔ ایسے سیشن ضرور ہونے چاہیے تاکہ طلبا ء اور طالبات اپنی مسائل کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کر سکے۔ فرحانہ کنول نے طلباء و طالبات کے ساتھ سوال و جواب کا خصوصی نشست بھی رکھا جس میں مختلف سماجی اقدار پر شرکاء سے سوالات پوچھے گئے۔ دو روزہ سیمینار کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کئے گئے جبکہ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائی، سوچ، وقت مثبت کاموں میں صرف کریں اور ہمیشہ مثبت سوچا کریں۔ ہمیں ایک دوسرے کی بھی عزت کرنی چاہئے اور ہمیں ایک دوسرے کے اقدار، عادات، عقائد، مذہب وغیرہ کا بھی احترام کرنا چاہئے اور کسی پر بھی انگلی اٹھانے سے پہلے ایک بار اپنے گریباں میں ضرور دیکھنا چاہئے کہ میرے اندر کتنی غلطیاں ہیں اگر ہمارے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ فروغ پائے تو امید ہے کہ پوری دنیا میں امن قائم ہوگا اور کہیں بھی آپ کو دہشت گردی اور انتہای پسندی نظر نہیں آئے گی۔