120

بونی مستوج روڈ پر اپنی مدد کے تحت کام صوبائی ومرکزی حکومتوں پر اپر چترال کے عوام کا عدم اعتماد کا اظہارہے/مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور(چ،پ)چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے بونی مستوج روڈ پر اپنی مدد آپ کے تحت تعمیراتی کام کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر عوام کے عدم اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔ گذشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بونی مستوج روڈ40ہزار آبادی کی روڈ اور عام شاہراہ اور 32کلومیٹر پر محیط ہے بونی مستوج روڈ پر اپنی مدد کے تحت روڈ کو قابل استعمال بنانے کے لئے کام کا آغاز صوبائی ومرکزی حکومتوں پر اپر چترال کے عوام کا عدم اعتماد کا اظہار اور عوام کی طرف سے وارننگ اور حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے،لہذا صوبائی حکومت فوری طورپر عوام کی طرف سے خرچ کی گئی رقم ان کو ادا کرے اور اس روڈ پرکام کرنے والوں کو یومیہ مزدوری کی ادائیگی بھی یقینی بنائے۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ بونی،مستوج روڈ میں سابقہ دور میں جو کرپشن ہوئی ہے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بھی کرائی جائے اور ناقص روڈ تعمیر کرنے والوں کو سخت سزادی جائے۔اُنہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ چترال بونی مستوج شندور روڈ سی پیک میں شامل ہونے کے باوجود ابھی تک اس پر کام کا آغاز نہیں ہوسکا جبکہ اسمبلی فلور پر بار بار آواز اُٹھانے پر مجھے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ سی پیک فیز2میں چترال بونی مستوج شندور روڈ پر کام کا آغاز کیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا کہ سی پیک فیز2اس سال کے آخر تک اور 2021کے اوائل میں کام شروع کیا جائیگا اور نہ اس روڈ کی حالت کو بہتر بنایا جاسکا۔آخر کار تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام خود نکل کر پروفیسر اسماعیل ولی کی قیادت میں اپنے وسائل کے بل بوتے پر روڈ کی تعمیر ومرمت میں لگے ہوئے ہیں جوخراج تحسین کے مستحق ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں مزید سبکی سے بچنے کے لئے فوری طورپر عملی قدم اٹھائیں۔اسی طرح گذشتہ روز کے سیلاب نے جوتباہی مچائی ہے جس میں کئی مکانات صفہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور چالیس کے قریب مکانات کو نقصان پہنچا، ریشن روڈ اور پُل سیلاب میں بہہ گئے ہیں این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور1122 فوری کاروائی اور متاثرین کو ریلیف دیں اور عارضی سٹیل پُل کی تنصیب سے روڈ بحال کیا جائے۔ اُنہوں نے متاثرین کے لئے راشن،کمبل اور خیموں کے انتظام کا بھی مطالبہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں دونوں ایشوز پر قومی اور صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروارے ہیں۔