92

چترال میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لئے مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے،حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتے/استاذ محمد علی


چترال(بشیر حسین آزاد)معروف سماجی شخصیت اور سابقہ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال محمد علی خان استاذنے و زیراعظم پاکستان عمران خان،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ،گورنر،وزیر برائے معدنات،سیکرٹری معدنیات اور ڈائریکٹر معدنیات خیبرپختونخواہ کی توجہ ضلع چترال کی معدنیات کی طرف دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع چترال اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے دور افتادہ اور پسماندہ ضلع ہے،اس کی خوشحالی اور ترقی کا خیال رکھنا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ضلع چترال میں ترقی کی دوڑ میں گامزن ہونے کے کوئی خاطر خواہ وسائل نہیں ہیں۔معمولی پیمانے پر صرف جنگلات تھے جو اب تقریباًختم ہوچکے ہیں،البتہ معدنیات کے میدان میں چترالی عوام کی حوصلہ افزائی کرکے ان کی معاشی بدحالی میں قدرے بہتری لائی جاسکتی ہے کیونکہ ضلع چترال میں کلی طورپر صرف 2فیصد زمین اور باقی 98فیصد پہاڑ ہیں۔ہمارے دانست کے مطابق پہاڑوں میں معدنیات کی مقدار ضرور اس قدر ہیں کہ جن کے کھولنے اور مقامی طورپر کاروباری شکل دینے سے جہاں عوام کی حالت میں تبدیلی آسکتی ہے وہاں ٹیکس وغیرہ کی صورت میں حکومت کو بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔اُنہوں نے کہاہے کہ ہم عوام اور خصوصاًمعدنیات میں لیز لینے کے خواہشمند حضرات اس بات سے سخت نالاں ہیں کہ محکمہ معدنیات خیبرپختونخواہ چترالیوں کوجان بوجھ کر پیچھے دھکیل کرنہ جانے کیوں ضلع چترال سے باہر بعض سرمایہ داروں کے ایماء پر یہاں بڑے بڑے علاقوں پر انہیں Prospective Licenseکے حوالے سے بک کراکے ہمیں مقامی حق سے محروم کرنے کا عمل جاری ہے،حالانکہ ہمارے بعض چترالیوں کے100فیصد قانونی دستاویزات دفتر معدنیات میں موجود ہیں،لیکن ان کو نظر انداز کرکے طرح طرح کے بہانے اور رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔یہ عمل ہمارے عوام اور خصوصاً لیز لینے کے خواہشمند حضرات کو قطعاًمنظور نہیں ہیں۔قررارداد میں اُنہوں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1947کو معرض وجود میں آیا ہے اور ضلع چترال کی ریاستی تاریخ ہزار سال سے بھی پُرانی ہے۔اس طویل مدت کے اندر صرف چترالی عوام نے خود ہی اپنے محدود وسائل کے ساتھ جانی ومالی قربانی دے کر اس خطے کو ہرقسم کی جارحیت سے محفوظ رکھ کر اس کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کی ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں،صرف ایک ہی مثال کہ سن 1919کو جبکہ حکومت افغانستان نے حملہ کرکے ہمارے علاقہ کاؤتی تک کافی خاصی علاقے پر قبضہ کیا تھا،ان پر جوابی حملہ کرکے انہیں واپس ان کے وطن میں پسپا ہونے پر کس نے مجبورکیا تھا؟کیا یہ چترالیوں کے اپنے بل بوتے قربانیوں کا بین ثبوت نہیں ہے؟ان سے چھینی ہوئی دوتوپیں اب بھی چترال میں بطور ثبوت موجود ہیں۔اُنہوں نے قرارداد میں مزید کہا ہے کہ ضلع چترال 98فیصد پہاڑ اور صرف 2فیصد آراضی پر مشتمل ہے اب لگتا ہے کہ محکمہ معدنیات ان تمام پہاڑوں کومختلف بلاکس میں تقسیم کرکے لیز کیلئے ملک کے دیگر علاقوں کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور کمپنیوں کے نذر کیاجارہاہے اور چترالیوں کو ضلع چترال کے صرف 2فیصد آراضی کے مالک ہونے کی حد تک محدود رکھ دیا جارہا ہے یہ اقدام یقیناً چترالی عوام کے جغرافیائی اور تاریخی حیثیت کے خلاف ایک ناقابل ناانصافی کے متقاضی ہیں۔کیونکہ ضلع چترال کے پہاڑ چترالیوں کی عظیم قربانیوں کے مرہون منت ہوں۔لیکن فائدہ دوسرے لوگ حاصل کرلیں۔اور چترالی یکسر محروم ہوں یہ اقدام بلاشبہ یہاں کے عوام کے بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔اُنہوں نے مذکورہ بالا حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ بلحاظ معدنیات ہمارے پہاڑوں کے بلاکس سازی کے عمل کو فوری طورپربند کیا جائے اور چترالی عوام کو ان کے پہاڑوں میں آئے دن معدنیات کی تلاش کرنے اور ترجیحی بنیاد پر لیز کا حق تسلیم کیا جائے۔اور اگر کوئی مائن یا منزل ایسا ہو کہ جسے چترالی عوام نہ کرسکتے ہیں تو وہ الگ بات ہے۔