94

گلیشئر کے پگھلنے سے سیلاب کا خطرہ،اپر چترال میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے اجلاس،اقدامات طے کر لئے گئے

بونی(سرفراز شاہد)پی ڈی ایم اے کی طرف سے چترال میں گرمی شدت کے اضافے کی وجہ سے گلیشئرز پگھلنے اور سیلاب کے خطرے کا انتباہ جاری ہو نے کے بعد اپر چترال میں ممکنہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدینی کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر مستوج، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر موڑکہو/تورکہو، چترال ٹاسک فورس کے میجر ہمایون کے علاوہ لائن ڈیپارٹمنٹس اور این جی اوز کے ذمہ داروں نے شرکت کیں۔ اجلاس میں ممکنہ طور پر گلیشئر پگھلنے کی وجہ سے سیلاب آنے کی صورت میں اس سے نمٹنے کے لئے تیاری، انتظامات، حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں مربوط کاروائیوں کے لئے مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی سی آفس میں کمپلینٹ سیل قائم کیا جائیگا جس میں مختلف محکموں کی طرف سے فوکل پرسن موجود ہونگے۔ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام مشینری بالکل تیار رہیں جبکہ ٹی ایم اے مستوج اور ٹی ایم اے موڑکہو/تورکہو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کیلئے ایک بڑے جنریٹر کا بندوبست کریں تاکہ ہنگامی صورتحال میں بجلی منقطع ہونے کی صورت میں ہسپتال کو بجلی کی فراہمی یقینی ہو۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم (میل، فی میل) کے ڈی ای اوز سے کہا گیا کہ وہ یارخون، گہکیر اور ریشن کے مختلف پوائنٹس میں سرکاری سکول ضلعی انتظامیہ کے حوالے کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان سکولوں کو شیلٹر کے طور پر استعمال میں لایا جا سکے۔صورتحال کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ غیر معینہ مدت کے لئے اپر چترال میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ ڈی ایچ او اپر چترال ضلعے میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں میں ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائے گا جبکہ ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر رہینگے۔ ضلع کے اندر کے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان اور اسٹاف کی چھٹی منسوخ کر دئیے گئے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ اپر چترال ایمرجنسی کی صورت میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قبل از وقت تمام تر انتظامات یقینی بنانے کا پابند ہوگا۔اجلاس میں اپر چترال کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اپر سے کہا گیا کہ ضلع کے تمام گودام اور سیل پوائنٹس میں گندم کی ترسیل اور دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایمرجنسی میں گندم کی قلت نہ ہو۔ پریزیڈنٹ اجلاس میں اسماعیلیہ کونسل اپر چترال سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے رضاکاروں کو اطلاع پہنچائے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ان کا خدمات حاصل کیاجاسکے۔