168

اویر دہرے قتل کیس میں پیش رفت،واقعے میں ملوث تین ملزمان گرفتار کر لئے گئے

چترال(چ،پ)اپر چترال پولیس نے چند مہینے قبل لوٹ اویر میں جوانسال لڑکے اور لڑکی کے قتل کے واقعے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق مئی کی 19تاریخ کو نچھاغ اویر کے ایک جنگل میں انیس سالہ لڑکی اور تئیس سالہ نوجوان کی لاشیں ملی تھیں جنہیں مقامی افراد نے خود کشی کا واقعہ قرار دیا تھا تاہم بعض ذرائع اسے دانستہ قتل کی واردات بتا رہے تھے۔ اس کیس کے سلسلے میں مقامی افراد کی طرف سے پولیس کے ساتھ مبینہ طور پر عدم تعاؤن نے کیس کو مزید الجھا دیا۔ بعد ازاں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے بھی اسکا نوٹس لیا تھا۔ اپر چترال پولیس کی انتھک کوششو ں کے نتیجے میں مذکورہ کیس کی تفتیش میں نمایاں پیش رفت ہوگئی ہے اور دہرے قتل کے اس اندھے کیس میں اپر چترال پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کیس سے متعلق مقامی لوگوں اور مقتولین کے رشتے داروں کی طرف سے تعاؤن نہ کرنے اور ناکافی شواہد کی بنا پر کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا تھا کیونکہ لڑکا لڑکی کی ہلاکت کو خودکشی قرار دیا جارہا تھا۔ اب موبائل مسیجز، بندوق کی فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کے بعد یہ قتل کے کیس میں تبدیل ہو چکا ہے اور پولیس نے سائنسی بنیادوں پر اس کیس میں پیش رفت کی ہے۔
اس حوالے سے ڈی پی او اپر چترال ذوالفقار تنولی نے قتل کے وردات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاری عمل لایا گیا ہے۔ لوٹ اویر نچھاغ میں لڑکا لڑکی کی ہلاکت کو مبینہ طور پر خود کشی قرار دے کر کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی تھی۔جس پر بعض حلقوں کی طرف سے پولیس پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے۔ تاہم پولیس کے ساتھ مقامی لوگوں کے عدم تعاؤن کے باوجود پولیس نے سائنسی بنیادوں پر شواہد اکھٹے کئے اور تین افراد کو گر فتار کیا ہے جو کہ پولیس کے مطابق دوہرے قتل کے اس کیس کے ملزمان ہیں۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔گرفتار ملزمان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انمیں سے دو مقتولہ کے بھائی اور ایک چچا زاد ہے۔
واضح رہے کہ علاقہ اویر میں گذشتہ چند سالوں کے دوران قتل کے سات واقعات ہوئے ہیں۔ لیکن اس میں پولیس کو قاتلوں کی گرفتاری میں کامیابی نہیں ہوئی۔ جبکہ ماضی قریب میں ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے قاتل بھی صاف طور پر بچ گئے تھے۔