150

اپر چترال میں قرنطینہ مراکز کے انتظامات اطمینان بخش نہیں ہیں، ایس او پی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے/مولانا عبدالاکبر چترالی

چترال(گل حماد فاروقی)رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے ضلع اپر بالائی چترال کا دورہ کرکے وہاں پر قائم قرنطینہ مراکز میں انتظامیہ کی جانب سے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کیا۔چترال میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ بالائی چترال میں جو لوگ باہر سے آتے ہیں ان کیلئے زنانہ ڈگری کالج اور دیگر سرکاری عمارتوں میں قرنطینہ مرکز کے نام پر اصطبل قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا قرنطینہ کا مطلب ایک کمرے میں ایک فرد ہونا چاہئے اور اگر زیادہ لوگ ہوں تو ان کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہو مگر جہاں ایک ہی کمرے میں درجنوں لوگ جمع کئے جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم خود ہی کورونا وائرس کو دعوت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو گزشتہ رات کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے، ان کیلئے سر چھپانے کا بھی بندوبست نہیں کیا گیا تھا جو سراسر حفظان صحت کے اصولوں کیخلاف ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلع اپر چترال میں بونی کے مقام پر ہسپتال ابھی تک تحصیل ہیڈ کوارٹرز کے درجے میں ہے، اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال کا درجہ دینا چاہئے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے محکمہ صحت کے عملے کو خراج تحسین پیش کیا کہ ان کے پاس ضروری سامان نہ اور کسی قسم حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باوجود اپنی زندگی داؤ پر لگاکر مشتبہ مریضوں کا معائنہ کررہے ہیں۔ چترال ایک پسماندہ علاقہ ہے اگر یہاں خدانحواستہ کورونا وائرس پہنچ گیا تو یہاں تباہی مچے گی کیونکہ یہاں سے مریض کو پشاور پہنچانے میں سولہ گھنٹے لگتے ہیں، چترال کے بالائی علاقے کے ہسپتال کو فوری طور پر ایمبولنس فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع اپر چترال کیلئے فوری طور پر چار کروڑ روپے ریلیز کیا جائے اور لوئر چترال کیلئے پانچ کروڑ روپے کا گرانٹ دیا جائے تاکہ ہم اس وباء پر قابو پاسکیں۔انہوں نے بعد ازاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لوئر چترال کا دورہ بھی کیا۔ایم این اے چترالی نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر جاکر حالیہ صورتحال کے حوالے تیاریوں اور ہسپتال میں موجود اوزار اور سامان کے بارے میں بریفنگ لی۔
ہسپتال کے ایم ایس نے بتایا کہ ہمارے پاس جو چار ونٹی لیٹرز تھے وہ ابھی تک چلائے نہیں گئے ہیں تاہم ان کیلئے پشاور سے انجینئرنگ سٹاف آیا ہوا ہے امید ہے ان کو آج چلائیں گے۔ایم ایس نے بتایا کہ ہم میں نے تین ہزار حفاظتی سامان کا مطالبہ کیا تھا جس میں صرف ایک سو مجھے بھجوائے گئے۔ ہسپتال میں ہم نے ایک آئی سولیشن وارڈ مختص کیا ہے جس میں آٹھ ڈاکٹرز، آٹھ نرسز اور آٹھ کلاس فور تین شفٹوں میں کام کریں گے، جو سامان صوبائی حکومت نے بھیجا ہے وہ ایک ہی دن میں ختم ہوتا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی علاج کیلئے جو ڈاکٹر، نرس یا سٹاف محفوظ لباس پہنتا ہے اسے اسی دن تلف کیا جاتا ہے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے ایک محتاط اندازے کے مطابق کورونا وائرس سے چالیس فی صد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ چترال میں اگر خدا نخواستہ کورونا پہنچ جاتا ہے تو اس سے دو لاکھ آبادی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں جو ڈاکٹر کام کرتے ہیں ان کی دو سال ٹریننگ ہوتی ہے اس کے بعد وہ ونٹی لیٹرز مشین چلا سکتے ہیں۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی مولانا چترالی نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ چترال جیسے پسماندہ اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ضروری سامان اور مشنری فراہم کیا جائے تاکہ اس وباء کی ممکنہ خطرے پر بروقت قابو پایا جاسکے ورنہ ایک بار یہ بیماری اگر یہاں داخل ہوئی تو اس سے بچنا بہت مشکل ہوگا اور پورے چترال کو لپیٹ میں گا۔