450

چترال بازار میں ریڑھی بانوں کے لئے الگ جگہ مختص کیا جائے،ریڑھیوں کی بھرمار سے نقل و حمل میں مشکلات درپیش ہیں

چترال(محکم الدین)چترال کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی غفلت و رحم دلی کی وجہ سے ریڑھی بانوں نے چترال شہر پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ہے۔ ریڑھی والوں اور سوزوکی میں موبائل سبزی و فروٹ فروخت کرنے والوں کی طرف سے سڑک کے دونوں اطراف میں کاروبار سجانے اور پیدل راستے بند کرنے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن انتظامیہ خصوصا ًپولیس کو عوام کی مشکلات کا ذرا برابر ادراک نہیں ہے۔ چترال بائی پاس روڈ کی تعمیر سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ اب گاڑیوں کی آمدورفت اور راہگیروں کی نقل و حمل کی راہ میں مشکلات دور ہو ں گی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بائی پاس روڈ ایک طرف گاڑیوں کی پارکنگ بن کر رہ گئی ہے اور دوسری طرف ریڑھی بانوں کی فوج ظفر موج جو چترال میں مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں،کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے مردو خواتین خصوصا سکول کے بچوں کی نقل و حمل نا ممکن ہو چکی ہے۔ مین بائی پاس روڈ،اتالیق چوک، اتالیق پل، گولدور چوک،،کڑوپ رشت بازار، اتالیق اڈہ ایریا میں روڈ پر کوئی جگہ ایسا نہیں جہاں ریڑھی والوں نے ریڑھی کھڑی نہ کی ہو۔ بدقسمتی سے چترال میں پیدل چلنے والوں کیلئے سڑک کے اطراف میں فٹ پاتھ کی تعمیر کا تصور نہیں جس کی وجہ سے راہگیر سڑک کے ایک طرف چلنے پر مجبور ہیں۔ اب سڑک کے اطراف پر ریڑھی والوں کا قبضہ ہے تو لوگ سڑک کے بیچوں بیچ چلنے پر مجبور ہیں جو کہ روز بروز بڑھتی ٹریفک کی وجہ سے خطرے سے خالی نہیں ہے اور اکثر اوقات حادثات رونما ہوتے ہیں۔ چترال کے آفیسران اور لوگوں میں سب کیلئے رحم دلی پائی جاتی ہے اور کسی کے رزق میں دخل اندازی کو اچھا نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد اس رحم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ موجودہ وقت میں باہر سے آئے ہوئے ریڑھی بانوں نے تو شہر کے روڈز کو اپنی ملکیت بنا دیا ہے جن کے خلاف چترال انتظامیہ اور پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اور نہ کوئی طریقہ کار وضع کرکے ان کو ایک مخصوص جگہے پر اپنا کاروبار کرنے کا پابند بناتی ہے۔ جا بجا سڑکوں پر ریڑھیوں کی وجہ سے گندگی اور کچروں میں بھی اضافہ ہورہا ہے جن کو ٹھکانے لگانے کیلئے بھی ان کو پابند نہیں بنایا جاتا۔ ان کچروں اور پھلوں کے چھلکوں کو سڑک کے اطراف کی نالیوں،نالہ چترال گول،گولدور نہر،اتالیق اڈہ ایریا اور کڑوپ رشت ایریا میں پھینک دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آئے روز نالیاں بند ہو کر پانی سڑکوں پر آتا ہے۔ اور لوگ سڑکوں پر جاری نالیوں کے گندے پانی کے چھینٹوں سے خود کو بچانے کی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔
چترال ایک سیاحتی مقام ہے۔ اس لئے سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کے سامنے چترال کی اچھی تصویر پیش کرنے کیلئے اسے صاف ستھرا شہر بنانے کی ضرورت ہے جس میں گاڑیوں،ریڑھی بانوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے متعین ہونے چاہیں تاکہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے وژن اور ہدایات کے مطابق سیاحت کو ترقی دی جاسکے اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔ بصورت دیگر چترال بھی ریڑھی بانوں کے قبضے میں پشاور اور دوسرے شہروں کی طرح یرغمال بن کر رہ جائے گا۔ اس وقت انتظامیہ اور پولیس کی کاروائی کوئی کام نہیں آئے گی۔