321

آرمی ہیلی کاپٹر میں غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو کرنے کی اجازت نہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے/ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن

چترال(محکم الدین)ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے صدر خوشید حسین مغل ایڈوکیٹ، چیئرمین ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، وقاص احمد ایڈوکیٹ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چترال ساجد اللہ ایڈوکیٹ، حمید احمد ایڈوکیٹ اور سراج الدین ربانی ایڈوکیٹ وغیرہ نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے جس کی وجہ سے ایمر جنسی بیمار چترال پشاور منتقل نہیں کیا جاسکا نتیجتاً تا غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کی موت واقع ہوئی اور چترال ایک قابل قانودان بیٹے سے محروم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ غلام حضرت انقلابی چترال کے معروف وکلاء میں سے تھے اور تین بار ڈسٹرکٹ بار کے صدر رہ چکے تھے، چترال میں ہائی کورٹ سرکٹ بینچ کا قیام و جو ڈیشل کمپلیکس جغور چترال کی تعمیر اُن کی کو ششوں کا نتیجہ ہے۔گذشتہ روز شدید برفباری کے بعد اُن پر اچانک دل کا دورہ پڑا، اُس وقت لواری ٹنل روڈ چترال سائیڈ پر برفباری کی وجہ سے بند تھا، لیکن اگلے دن آرمی ہیلی کاپٹر چترال کے ایک شہید کی لاش کو لے کر چترال آیا تو وکلاء میں یہ اُمید پیدا ہو گئی کہ ہیلی کاپٹر چترال سے واپسی پر غلام حضرت انقلابی کو ضرور ریسکیو کرکے پشاور پہنچائے گا اور اُس کی زندگی بچ جائے گی۔وکلاء راہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھنٹوں کی رابطہ کاری کے باوجود غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کو آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال سے پشاور منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یوں وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایمرجنسی یونٹ میں بیس گھنٹے مزید تڑپ تڑپ کر جان دے دی، اگر اس خالی ہیلی کاپٹر میں انہیں پشاور منتقل کیا جاتا تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اقدام کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کی بد ترین تذلیل قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کشمیر میں برفباری سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف برفباری کے نتیجے میں محصور ہونے والی پانچ لاکھ کی آبادی کے واحد ایمر جنسی مریض کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں سیر سپاٹے کیلئے آئے ہوئے وزیر اعظم کی بہن حلیمہ خان کو بھی ہیلی میں ریسکیو کرتے دیکھا گیا ہے لیکن چترال کے ایک معزز شہری اور قانون دان کی جان بچانے کیلئے یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کی جان چلی گئی۔ خورشید حسین مغل نے کہاکہ پاکستان کے چیف آف اسٹاف ایک رحم دل انسان ہیں اور وہ ضرور اس امتیازی سلوک کا نو ٹس لے کر ایکشن لیں گے۔ انہوں نے این ایچ اے اور وفاقی حکومت کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ چترال سائیڈ پر برف صفائی کا کام ایک کمزور اور نکمے ٹھیکیدار کے سپرد ہے جسکے پاس مناسب مشینری ہی دستیاب نہیں،اسکا ثبوت یہ ہے کہ دیر سائڈ سے برف صاف ہونے کے بعد گاڑیاں جب چترال میں داخل ہوئیں تو براڈم، عشریت کا راستہ بند تھا او ر مسافروں کو دو دن مزید روڈ کھلنے کا انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہااگر روڈ بروقت کُھل جاتا تو سڑک کے راستے بھی غلام حضرت کو پشاور علاج کیلئے پہنچایا جا سکتا تھا۔ وکلاء نے کہا کہ یہ تاریخ کا بد ترین جبر ہے اور چترال کے انتہائی محب وطن اور اپنے معزز اداروں کا احترام و قدر کرنے والے لوگوں نے اسے شدید طور پر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرحوم غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کے ورثا کو معاوضہ ادا کیا جائے تاکہ اُن کے معصوم بچوں اور بیوہ کی کفالت ہو سکے۔ وکلاء نے ڈپٹی کمشنر چترال کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور کہا۔ کہ ضلع کے انتظامی امور میں انتہائی طور پر کمزور آفیسر ہیں۔ جس کو عوامی مسائل کا علم ہی نہیں اور نہ مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔