61

غذائیت کے حوالے سے چترال میں آگاہی سمینار کا انعقاد کیا گیا

چترال (نذیر حسین شاہ)غذائی کمی پاکستان میں ماؤں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے سروں پر لٹکتی تلوار کی مانند ہے،بہترمنصوبہ بندی کے ذریعے غذائیت کی کمی کے باعث موت کی آغوش میں جانے والے بچوں کو بچایاجاسکتاہے،غذائی کمی،اس کے اسباب اور اس سے بچاؤکے تدابیرکے لئے آگاہی مہم گھرگھرپہنچانے کی اشدضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال ڈاکٹرمجیب الرحمن نے آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے زیرنگرانی کام کرنے والے ادارہ (AQCEES) پراجیکٹ کے تعاون سے نیوٹریشن مینجمنٹ اورجینڈر کے موضوع پر9روزہ ورکشاپ کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ طب و صحت کے بارے میں آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مائیں اس بات سے بھی لاعلم ہوتی ہیں کہ بچے کوبیماری کی حالت میں دوا کے علاوہ غذا میں کس کس چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ بچے کو بیماری کی حالت میں بھوک نہیں لگتی تاہم اگر بیماری میں بچے کو غذا نہ ملے تو اس کا جسم مزید کمزور ہوسکتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچپن میں کسی بیماری کے دوران اگر بچے کو مناسب دوائیں اور ماں کی طرف سے صحیح نگہداشت نہ ملے تو اس دوران ہونے والی کمزوری ساری زندگی اسکا پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دورانِ حمل سب سے زیادہ خواتین کو جو مسئلہ درپیش ہوتاہے وہ خون کی کمی کا مسئلہ ہے جس کا سب سے زیادہ خواتین شکار ہوتی ہیں اور یہی کمزوری آگے جاکر بچے کی نشونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ اچھی خوراک کا نہ لینا ہے،یا خوراک میں آئرن کی کمی کا ہونا ہے۔اسی لئے متوازن غذا کی سب سے زیادہ ضرورت دورانِ حمل میں ہوتی ہے۔ آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے ریجنل پروگرام منیجرمعراج الدین نے کہاہے کہ اے کے ایچ ایس پی اپنی ہیلتھ پالیسی کے ذریعے ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنا رہاہے اور چترال کے دوردرازاورپسماندہ علاقوں میں معیاری، منصفانہ اورپائیدار طبی سہولیات یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے۔آغاخان ہیلتھ سروس چترال ایمرجنسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری رسپانس،پانچ سال سے کم عمر بچوں کی غذائی کمی اورصحت کے حوالے سے دیگر مسئلے پر قابوپانے کیلئے آگاہی مہم کررہے ہیں۔ ہماری اولین کوشش رہتی ہے کہ ہم عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کریں تاکہ ان مسائل میں کافی حدتک کمی واقع ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ صرف غریب خاندان کے بچے غذائی کمی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ امیر خاندان کے بچے بھی اس کا شکار ہوتے ہیں اس کی اہم وجہ غذا کی کمی نہیں بلکہ خراب، ناقص غذا کا کھانا ہے اس لئے بچوں کو غذائیت سے بھر پور خوراک دی جائے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں خواتین دیگربہت سے مسائل کاشکارہونے کے علاوہ خوراک کی کمی کابھی شکارہیں جس پرتوجہ دنیاہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے، کم خوراک عورتوں کی صحت پرانتہائی مضراثرات مرتب کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ خواتین کومحفوظ ماحول کی فراہمی کویقینی بنانے کے لئے صنفی مساوات کی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔پروگرام سہولت کار، (AQCESS پراجیکٹ کے پروگرام آفیسرظاہرہ جاویداورنیوٹریشن آفیسرایم سی ایچ گلگت محمدیاسین نے کہاکہ اکثر مائیں دوران حمل اور اس سے قبل اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتی ہیں۔ غذائی کمی کے باعث ان کا جسم لاغر ہوجاتا ہے اور انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی خواتین جب مائیں بنتی ہیں تو ان کے ہاں بھی بچے عموماً کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان بچوں کو مناسب خوراک نہ ملے تو یہ اور کمزور ہوجاتے ہیں اور اکثر بچے بیمار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایچ ایس پی غذائی کمی کے وجوہات اورروک تھام کے حوالے سے مکمل آگاہی پروگرام کو ایل ایچ ڈبلیو،سی ایم ڈبلیواوردیگرمتعلقہ اسٹاف کے ذریعے گھرگھرتک پہنچانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر ماں بننے والی عورت کومعلوم ہوناچاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے بچے کی صحت کا خیال رکھ سکے۔ اورماں بننے کے مر حلے میں ایک عورت کو کن معدنیات،وٹامن اور غذائی اجزاء کی ضرورت پڑتی ہے اس کے بارے آگاہی ہو۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو مرد کی ملکیت بنا کر اسے اخلاقی بندھنوں میں باندھ کر گھر کی چاردیواری میں بند کرتے ہیں مردوں کے برابرخواتین کومساوی حقوق دینے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر کوآڈینٹرایل ایچ ڈبلیو چترال ڈاکٹر سلیم سیف اللہ،ڈسٹرکٹ کوآڈینٹر ٹیکوپلس پراجیکٹ انوربیگ،کوآرڈنیٹر میرفیاض، سینئر فیلڈ آفیسرشہناز،حصول اوردیگرنے شرکت کی۔ورکشاپ میں 70ایل ایچ ڈبلیواور26سی ایم ڈبلیو نے شرکت کی۔آخرمیں تمام شراکاء ورکشاپ میں سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے۔