66

آرپی ایم محمد کرم اے کے ڈی این میں 32سال کام کرنے کے بعد سبکدوش ہو گئے

چترال(نامہ نگار)آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس چترال آر پی ایم محمد کرم ادارے میں 32سال خدمات انجام دینے کے بعد اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔گذشتہ دنوں ادارے کی طرف سے محمد کرم کے اعزاز میں الوادعی تقریب کا اہتمام کیا گیاجس میں ریجنل کونسل کے پریذیڈنٹ، سنیئر لیڈرشپ،ادارے کے سی ای او اور تمام اسٹاف نے شرکت کی۔ اپنے اعزاز میں دئے گئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد کرم نے کہا کہ وہ ادارے کے احسان مند ہیں جس کی وجہ سے انہیں معاشرے میں عزت ملی، سوشل اسٹیٹس ملا،ادارے نے انہیں پوزیشن دیا، اور زندگی بہتر طور پر گزارنے کے لئے سہولیات فراہم کیں۔بطور انسان میں تسلیم کرتا ہوں کہ جتنا ادارے نے کی طرف سے ملا ہے وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنا ہی ادارے کو لوٹایا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے انہوں کمیونٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس وقت دلی سکون ملتا ہے جب تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار کوئی پروجیکٹ تکمیل کو پہنچتا ہے۔اس خوشی کے احساس کو آپ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے جو اس وقت ملتی ہے جب آپ کے ادارے کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بروغل وادی میں AKAH نے جو ترقیاتی کام کئے ہیں اس سے لوگوں کی زندگی میں جو آسانیاں پیدا ہوئی ہیں اس سے جو خوشی اور اطمینان ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ AKAH بننے کے بعد مشکلات میں کمی آئی مگر لوگوں کی توقعات بہت بڑھ گئی ہیں۔ لوگ AKAH کو بہت بڑا ادارہ سمجھتے ہیں۔ اتنے سارے توقعات پر پورا اترنے میں ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے نواب صاحب نے جو مدد کی ہے اس کے لئے میں ان کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔ اور یہ امید رکھوں گا کہ وہ نئے آر پی ایم کے ساتھ بھی مدد جاری رکھیں گے۔انہو ں نے کہا کہ کیریئر بناتے ہوئے تین بنیادی چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ علم، قابلیت اور رویہ۔ علم اور قابلیت محنت سے حاصل کی جاتی ہے مگر رویہ ان دونوں کامیابیوں کے راہ میں دیوار بن جاتی ہے اس لئے ہمیں اپنی علم اور قابلیت کے ساتھ اپنے رویے کی بہتری کے لئے بھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ان تینوں کی بہتری کے لئے مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے اس لئے کتب بینی کو عادت بنائیں۔ کام کرتے ہوئے اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صحیح کام کررہے ہیں ضمیر سے بڑا منصف اور کوئی نہیں ہوتاکام ہمیشہ اس طرح کریں کہ وہ ضمیر کو حلال لگے۔ دونوں صدور صاحبان،سی ای او اور تمام اسٹاف کا شکریہ ادا کرتا ہوں سی ای او کا خاص طور سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اتنی زیادہ مصروفیات کے باوجود اس تقریب میں شرکت کرنے اور آپ لوگوں سے ملنے کے لئے تشریف لائے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایکس پریذیڈنٹ محمد افضل اور پریذیڈنٹ ڈاکٹر ریاض احمد نے اس بات پر زور دیا کہ AKAH اپنے سابقہ رویات کو برقرار رکھتے ہوئے چترال کے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی روایات کو برقرار رکھے۔ اداروں میں نئے لوگوں کے آنے سے ادارے مزید مظبوط اور پائیدار ہوتے ہیں وہ افراد معاشرے کے کامیاب ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں جو اداروں کو کچھ دے کر جاتے ہیں۔
سی ای او AKAHنے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ کسی ادارے میں اتنا عرصہ کام کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔ AKDN کا وژن ہی یہی ہے کہ انسانی زندگی میں بہتری لائی جائے ہمیں بھی بطور اسٹاف AKDN کے اس وژن کو خلوص دل سے پروموٹ کرنا ہے۔ادارے کی پالیسی کی بنیاد پر بعض اوقات مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ تمام اسٹاف ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ ہم سب ادارے کی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اور اسی پالیسی کے تحت ایک دن اپنے حصہ کا کام کرنے کے بعد محمد کرم کی طرح عزت و توقیر کے ساتھ رخصت بھی ہوتے ہیں۔ پالیسی کے تحت کئے گئے مشکلوں فیصلو ں کے درد کا ہمیں احساس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان، پاکستان آرمی اور چترال کی ضلعی انتظامیہ کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں ہر مشکل وقت میں مسائل کے شکار لوگوں تک پہنچنے میں ہماری مدد کی۔ خاص طور پر پاکستان آرمی کے شکرگزار ہیں جنہوں نے 2015 کے سیلاب اور حالیہ سندھ میں بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے میں ہماری درخواست پر فوراً ہماری مدد کو آئے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی مشکل وقتوں میں ہماری مدد جاری رکھیں گے۔ نئے منتخب ہونے والے آر پی ایم امیر محمد نے کہا کہ وہ ہائی منجمنٹ کے بھروسے پر پورا اترنے کی پوری کوشش کریں گے۔ وہ اپنے علاقے کی بہتری کے لئے مزید دلجمعی سے کام کریں گے۔آپ لوگوں نے ادارے کو جس مقام پر کامیابی سے پہنچایا ہے ہم اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کوشش کریں گے کہ ادارہ مزید ترقی کرے اور لوگوں کی زندگیوں میں مزید آسانیاں پیدا کرے۔