60

وزیراعلیٰ محمود خان کا ایک روزہ دورہ چترال،متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا

چترال(محکم الدین)وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز چترال کا ایک روزہ دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے دورہ کے دوران دروش میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اور اوسیک آر سی سی پل کا بھی افتتاح کیا۔دروش سے وزیراعلیٰ چترال پہنچے اور ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ویلج کنزرویشن کمیٹیز کے نمایندوں میں ٹرافی شکار کے چیک تقسیم کئے۔ ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کا متبادل روٹ چترال سے ہی ہوکر گزرے گا جس پر 119بلین روپے خرچ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں نئے پراجیکٹس پر کام کرنا ممکن نہیں،جن اداروں خصوصا ہسپتالوں میں سامان کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔آن گوئنگ اسکیموں کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر نئے پراجیکٹس کیلئے انتظار کرنا پڑے گا۔وزیر اعلی نے چترال میں ڈاکٹروں کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے اس ضمن میں اقدامات اٹھانے کی یقین دھانی کی۔ چترال ٹاؤن کے اندر سڑکوں کی حالت زار میں بہتری لانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی بات کی۔وزیر اعلی کالاش کمیونٹی کیلئے پانچ کروڑ روپے انڈومنٹ فنڈ کا اعلان کیا. جسے کالاش فوتگی کے موقع پر غریب لوگوں کے ساتھ امداد کے طور پر استعمال میں لایا جائے گا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے چترال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چترال کے اندر ایون بمبوریت روڈ کیلئے چونسٹھ کروڑ روپے پی ایس ڈی پی میں اپرو ہو چکے ہیں، صرف کام شروع کرنے کی دیر ہے،اسی طرح چترال گرم چشمہ روڈ کے جملہ کو ائف مکمل ہیں اور اسکے اپرول کی ضرورت ہے،چترال شندور روڈ، ایری گیشن چینلز،گولین ڈیزاسٹر فنڈ،ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے مختلف سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیر اعلی نے اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کی یقین دھانی کی۔ وزیر اعلیٰ نے ڈی سی آفس میں پی ایم آر یو سیل کا بھی افتتاح کیا۔


قبل ازین وزیر اعلیٰ جب چترال ایر پورٹ پہنچے تو اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ، کمشنر ملاکنڈ ریاض محسود اور ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے ان کا استقبال کیا۔ ڈی سی آفس چترال پہنچنے پر لیویز کے دستے نے وزیر اعلیٰ کو سلامی دی۔ اس موقع پر چترال کی طرف سے وزیر اعلی محمود خان،اشتیاق ارمڑ اور دیگر مہمانوں کو چترالی چوغے اور ٹوپی پہنائے گئے جبکہ کالاش کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہوئی ممتاز خاتون سید گل اور ایران بی بی نے روایتی ہار پہنائے۔ بعد ازاں وزیر اعلی ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کیلئے ریشن پہنچے اور ریشن پولوگراونڈ میں متاثرہ ریشن بجلی گھر کے کام کا افتتاح کیاتاہم بہت بڑی تعداد میں لوگ اس بات پر ناراض ہو کر جلسے اور افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کی کہ افتتاح کا یہ پروگرام بجلی گھر ہی میں ہونا چاہیے تھا جو کہ صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس طرح وزیر اعلی ریشن گول میں متاثرین کی حالت بھی دیکھ لیتے لیکن سی اینڈ ڈبلیو، ایری گیشن اور پبلک ہیلتھ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے وزیر اعلی کو بجلی گھر آنے نہیں دیا،اسی طرح تقریبا ڈیڑھ سو افراد مشتمل افراد نے بجلی گھر کا خود افتتاح کیا۔وزیر اعلی نے ریشن میں خطاب کرتے ہوئے نئے ڈسٹرکٹ کی تعمیرو ترقی کی یقین دھانی کرائی۔