83

صوبائی کابینہ نے اسپیشل پولیس فورس کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی،سینکڑوں اہلکارمستقل کر دئیے جائینگے

پشاور(میڈیا ڈیسک)خیبرپختونخوا کابینہ نے خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔جس کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تعینات لیویز اور خاصہ دار فورسز کو مستقل بنیادوں پر صوبائی پولیس میں ضم کردیا جائے گا۔انضمام کے بعد دونوں فورسز کو پولیس فور س کی تمام مراعات،سہولیات اور فوائد حاصل ہوں گے۔کابینہ کا اجلاس وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی صدارت منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور صوبائی حکومت نے لیویز اور خاصہ دار فورس کی مستقبل کے بارے میں جووعدے کئے تھے وہ آج ہم نے پورے کردیے لیویز اور خاصہ دار فورس کے پولیس میں انضمام کے قانون کی منظوری سے اب یہ فورس مستقل طورپر صوبائی پولیس میں ضم ہوں گی اور انہیں پولیس کی تمام تر سہولیات اور مراعات حاصل ہوں گی۔پولیس میں ضم ہونے وا لے لیویز اور خاصہ دار فورس کے ملازمین کی سنیارٹی ان کی پہلی تقرری کے دن سے شمار ہوگی۔ کابینہ نے کے پی اسپیشل پولیس آفیسرز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2019 کی بھی منظوری دی دی جس کے نتیجے میں صوبائی پولیس میں کنٹریکٹ یا فکسڈ پے پر بھرتی کئے گئے اسپیل پولیس آفیسرز کو مستقل کردیا جائے گا۔ قانون کے تحت یکم اگست 2019 تک اپنے عہدوں پر کام کرنے والے اسپیشل پولیس آفیسرز اپنی ملازمتوں پر مستقل کر دیے جائیں گے۔ صوبائی کابینہ نے ضلع اپر کوہستان کے علاقے کنڈائی میں سڑک کے ایک حادثے میں جان بحق 25 افراد کے لئے پانچ پانچ لاکھ روپے فی کس جبکہ زخمی ہونے والے افراد کے لئے ایک لاکھ روپے فی کس کے حسب سے خصوصی معاوضوں کی ادائیگی کی منظوری دیدی۔ اسی طرح کوہستان میں سڑک کے ایک اورحادثے میں جان بحق ہونے والے سات افراد کیلئے بھی معاوضوں کی ادائیگی کی منظوری دیدی گئی۔ ان خصوصی معاوضوں کی مد میں ایک کروڑ 42 لاکھ روپے لاگت آئیگی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز (آڈٹ) رولز 2019 اور خیبر پختونخو سیلز ٹیکس آن سروسز (ریکوری) رولز 2019 کی بھی منظوری دیدی گئی ان رولز کے تحت صوبے میں سیلز ٹیکس کے آڈٹ سے متعلق معامالات کو صاف، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے آئی ٹی بیسڈ سسٹم متعارف کروانے کے علاوہ دیگر ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ ان رولز پر عمل در آمد کے نتیجے میں صوبے میں ٹیکس ریکوری خصوصاً سیلز ٹیکس کے بقایا جات کو ریکوری بہتر ہو جائیگی۔ کابینہ نے سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں اسپیشل لیوی پولیس ٹریننگ سنٹر کے لئے خریدی گئی 50 کنال زمین کیلئے 405.229 ملین روپے کی منظوری دیدی جس میں سے آدھی رقم اس مالی سال جبکہ آدھی رقم اگلے سال میں ادا کی جائیگی۔ کابینہ نے سرکاری منصوبوں کے لئے زمین کی خریداری سے متعلق معامالات خصوصاً سرکاری یا مارکیٹ ریٹ پر خریداری کے لئے کابینہ کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو 15 دنوں کے اندر اپنی تجاویز پیش کرے گی۔کابینہ نے محکمہ بہبود آبادی کے تحت مانع حمل ادویات کی خریداری کے لئے متعلقہ رولز میں ضروری استثنیٰ کی بھی منظوری دیدی اسی طرح اجلاس میں انوائرنمنٹیل امپرو منٹ فنڈ بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دیدی گئی۔ بورڈ کے قیام کا مقصد ماحولیات کی بہتری کے امور کو بطریق احسن چلانے اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے ادارہ جاتی نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔کابینہ نے عوامی مقامات پر بھیک مانگنے کے تدارک سے متعلق بل کی بھی منظوری دیدی جس کا مقصد پیشہ ور بھکاریوں کی بحالی، دیکھ بھال اور ان کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کیلئے مناسب اقدامات کرنا ہے۔اجلاس میں گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی محکمہ بلدیات سے محکمہ سیاحت کو منتقل کرنے کیلئے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں چند ضروری اور تکنیکی نوعیت کی ترامیم کی بھی منظوری دے دی۔