41

چترال میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے عظیم الشان ریلی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

چترال(محکم الدین) کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے چترال کے عوام اور انتظامیہ کے زیر اہتمام ریلی اور احتجاجی جلسے منعقد ہوئے جس میں سرکاری آفیسران،سیاسی قائدین،سول سوسائٹی کے نمائندگان،تجار برادری،ڈرائیور یونین،صحافی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس سلسلے میں ایک بڑی ریلی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال ذاکر حسین جدون کی زیر قیادت چیو پل سے شروع ہواجو چترال مین بازار سے ہوتا ہوا اتالیق چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس ریلی میں چترال کے تمام اداروں کے آفیسران اور ملازمین شامل تھے۔ ریلی کے شرکاء نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور انڈیا کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر کشمیر کی آزادی اور مظلوم کشمیریوں کی کامیابی کیلئے دعائیں کی گئیں اورہر قسم قربانی دینے کا اعادہ کیا گیا۔


بعد ازان نماز جمعہ کے بعد پی آئی اے چوک چترال میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ خطیب شاہی جامع مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کی زیر صدارت منعقد ہوا.جس سے خطاب کرتے ہوئے محمد حکیم ایڈوکیٹ،عبدالطیف،مولانا سلامت اللہ،مولانا اسرار الدین الہلال،ساجد اللہ ایڈوکیٹ اور مولانا خلیق الزمان و دیگر نے کہاکہ اب کشمیر کی آزادی کے حوالے سے انڈیا کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں کیونکہ مذاکرات کیلئے بھی اخلاقیات کی ضرورت ہے جس سے انڈیاعاری ہے۔حکومت کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں زوردار طریقے پر پیش کیا جائے اگر فیصلہ ممکن نہ ہواتو جہاد کا راستہ اختیار کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ تمام جہادی تنظیمات کو کشمیریوں کو انڈیا کے ظلم و بر بریت سے نجات دلانے کیلئے جہاد کیلئے بلانا چاہیے اور یہی اس کا واحد حل ہے۔انہوں نے انسانی حقو ق کی عالمی تنظیمات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اغیار کبھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار نہیں دیتے،آج پچیس دنوں سے کشمیری مسلمان گھروں میں محصور ہیں،کئی ہلاک ہو گئے ہیں،کھانے پینے کی اشیا اور جان بچانے والی ادویات تک لوگوں کو دستیاب نہیں لیکن عالمی ضمیر خاموش ہے،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر کشمیر کے اندر بربریت سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں سے ملنے اور بات کرنے کو ترس رہے ہیں لیکن انڈیا اور اقوام متحدہ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔ مقررین نے کہاکہ چترال کے مسلمان اپنے کشمیری بھائی بہنوں کیلئے تن من دھن کی قربانی کیلئے ہر وقت تیار ہیں، جب حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا تو ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ جنگ اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیاکہ حکومت پاکستان انڈیا کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرے،ان کا سفارتخانہ بند کردیا جائے اور پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو بھی ہندوستان سے واپس بلایا جائے،انڈیا کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،خصوصا انڈیا کی فلموں پر پابندی لگائی جائے۔ جلسے کے دوران مظاہرین نے ہندوستان کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور آخر میں مودی کا پتلا جلایا گیا۔