52

کالاش تہوار اوچال اپنی رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر، بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد

چترال(گل حماد فاروقی)کالاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار اوچال اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی کالاش میں اختتام پذیر ہوئی۔یہ تہوار کالاش قبیلے کے لوگ سال کے وسط میں مناتے ہیں جو اکثر گندم کی کٹائی کے بعد منعقد ہوتا ہے۔ اوچال کے تہوار میں کیلاش لوگ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں پنیر، پینک، شوپینیک وغیرہ لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔ کالاش لڑکی آرمینہ کہتی ہے کہ اس تہوار میں لڑکے ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ لڑکیاں (خواتین) اکھٹے رقص پیش کرتی ہیں اور گیت گاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں اور دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ برطانیہ سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاحCharlotte Hophinsenکا کہنا ہے کہ مجھے یہا ں آکر بہت مزہ آیا اور ہمیں چاہئے کہ ہم کالاش ثقافت کو محفوظ رکھیں اور اسے ختم نہ ہونے دے ں کیونکہ انہی تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اوچال کا ایک خاص رسم بھی منایا جاتا ہے جس میں وادی کے لوگ پھول اور پتے اکھٹے کرکے ماتم زدہ گھروں میں جاتے ہیں جہاں فوتگی ہوئی ہو اور اس طرح پھول ان کے ہاتھوں میں دیکر سوگ ختم کرکے وہ لوگ بھی ان کے رسم میں شریک ہوتے ہیں۔کالاش لوگ اکثر رات کو بھی رقص کرتے ہیں اور چراغیں ہاتھوں میں لیکر چاسو آتے ہیں جہاں وہ رقص کرتے ہیں اپنے ساتھ پنیر وغیرہ بھی لاتے ہیں اور اسے نہ صرف کالاش لوگوں کو دی جاتی ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کالاش کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں جو ہمیں اتنی نعمتیں دی ہیں اور خصوصی دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ وزیر زادہ نے اس موقع پر دنیا بھر اورخصوصی طور پر پڑوسی ملک ہندوستان کو پیغام دیا کہ اگر کسی نے اقلیتوں کے ساتھ محبت، رواداری اور نرمی دیکھنی ہو تو وہ پاکستان آکر کالاش لوگوں کے مسلمانوں کا شفقت دیکھے اور اس سے سبق حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کالاش بہت قلیل تعداد میں ہیں مگر مسلمان بھائیوں کی شفقت اور ان کی مہربانی سے ہم اپنے تمام مذہبی رسومات نہایت آزادی کے ساتھ مناتے ہیں۔


اوچال تہوار میں چترال کے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی جن کی آمد پر کالاش روایات کے مطابق ان کو زرق برق رنگین چوغے پہنائے گئے جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ اوچال کی تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کالاش پہنچ چکے تھے مگر اکثر سیاحو ں نے وادی کی خراب سڑکوں اور سہولیات کی فقدان کی شکایت کی۔ اس بات کو ایم پی اے وزیر زادہ نے بھی تسلیم کیا کہ پہلے غیر ملکی سیاحوں پر این او سی لینے کی شرط تھی جس کی وجہ سے یہاں کی سیاحت تباہ ہوئی تھی مگر اب وہ شرط ختم ہوگئی جس کے بعد بڑی تعداد میں سیاح علاقے کا رخ کررہے ہیں تاہم سڑکیں اتنی خراب ہیں کہ جب کوئی سیاح یہاں ایک بار آتا ہے تو دوبارہ نہ آنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
علاقے کے لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں نے بھی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ کم از کم وادی کالاش کی سڑکوں کی حالت بہتر کرے کیونکہ سڑکوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ دس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے پر نو گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر حکومت وادی کی مواصلاتی انتظام بہتر کرنے پر توجہ دے تو یہاں سیاحت کو بہت فروغ ملے گی جو یقینی طور پر اس پسماندہ خطے سے غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔