46

سنیئر صحافی کے بیٹے کی موت؛ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹھرے میں لانے کیلئے متوفی کے والد تین سال سے سرگردان

چترال (نامہ نگار) سنیئر صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے محمد فرحان مرحوم کی موت میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف تین سال گزرنے کے باوجود محکمہ صحت کے ارباب اختیار نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اسلام آباد کے ڈسپلنری کمیٹی کے اجلاس جو 2جولائی 2019 کو منعقد ہوا تھا جس میں ڈاکٹر محمد فیاض ولد ڈاکٹر محمد آیاز ڈسٹرکٹ چلڈرن سپیشلسٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ضلع ہنگو کا لائسنس چھ ماہ کیلئے، ڈاکٹر جہانگیر کا لائسنس چھ ماہ کیلئے اور ڈاکٹر اکرام الدین ولد مصلح الدین اسسٹنٹ پروفیسر پیڈیاٹرک سرجری (کنسلٹنٹ) لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا لائسنس ایک سال کیلئے پی ایم ڈی سی لٹر نمبر PF.8-1411/2016-Legal/317967مورخہ 11.06.2019 کو معطل کئے گئے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے MTI نے لیٹر نمبر1840/LRH/PA مورخہ26.06.2019کے تحت ڈاکٹر اکرام الدین کنسلٹنٹ چلڈرن سرجیکل یونٹ کی ملازمت کو ایک سال کیلئے معطل کیا گیا۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فیصلے مطابق جن ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کئے گئے وہ اس دوران نہ تو سرکاری ہسپتال میں کسی مریض کا معائنہ کرسکتے ہیں ااور نہ نجی کلینک میں۔ ہیلتھ ریگولٹری اتھارٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان ڈاکٹروں کے کلینک سربمہرکردے تاکہ مریضوں کا معائنہ نہ کرسکیں۔
فرحان کے موت کے واقعے میں اسکے والد سنیئر صحافی گل حماد فاروقی نے تین مرتبہ سیشن کورٹ اور ایک مرتبہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرکے باقاعدہ کیس دائر کیا۔ عدالتی حکم پر چھ ڈاکٹروں نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت (BBA) حاصل کی جن میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان، نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کے ڈاکٹرارشاد آفریدی، ڈاکٹر سپین گل، ڈاکٹر اعجاز چترالی، ڈاکٹر محمد ذہین اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر کفایت خان نے عدالت سے ضمانت حاصل کی جبکہ چار ڈاکٹر بار بار نوٹس کے باوجود نہ تو عدالت میں حاضر ہوئے نہ پولیس کو گرفتاری پیش کی جس پر پولیس کے تفتیشی افسران نے عدالت سے رجوع کیا اور جناب شیراز خان سول جج XV کے فاضل عدالت نے دو اگست 2019 کو ڈاکٹر اصغر نواز، ڈاکٹر محمد فیاض ولد محمد آیاز ڈسٹرکٹ چلڈرن سپیشلسٹ DHQ ہستپال ضلع ہنگو، ڈاکٹر جہانگیر اور ڈاکٹر مختیار زمان کو اشتہاری قراردیکر ان کو حکم دیا کہ وہ مورخہ 02 ستمبر 2019 کو عدالت میں پیش ہو۔ متعلقہ پولیس نے ان اشتہاری مجرمان کی اشتہارات ہسپتال کے مین گیٹ، نوٹس بورڈ اور شاہراہ عام پر بھی چسپاں کردئیے مگر تاحال ان اشتہاری ملزمان نے ابھی تک نہ تو پولیس کو گرفتاری دی ہے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کیا۔ اس سلسلے میں تھانہ خان رازق شہید کے تفتیشی آفیسر خلیل الرحمان خان سب انسپکٹر، اور تھانہ کے ایس ایچ او سے بھی رابطہ کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کرلی۔
واضح رہے کہ محمد فرحان کو 28 جولائی 2016 کو دوپہر کے وقت پیٹ میں شدید درد محسوس کیساتھ الٹیاں آنے لگی جسے گھر کے قریب اخونزادہ ویلفیئر کلینک کے ڈاکٹر عمران کو دکھایا جس نے درد کی دوا لکھ کر اسے گھر بھیج دیا مگر آفاقہ نہ ہونے کی صورت میں اسے 29 جولائی کو نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور لے جایا گیا جہاں کیجولٹی میں ڈاکٹر ارشاد آفریدی نے اسے درد کا انجکشن لگاکر گھر بھیج دیا مگر درد زیادہ ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ اسی ہسپتال میں صبح نو بجے چلڈرن او پی ڈی لے گئے۔ جہاں ڈاکٹر سپین گل نے اسے الٹر ساؤنڈ کیلئے بھجا اور ڈاکٹر اعجاز چترالی نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ نارمل ہے۔ بچے کو واپس گھر لایا گیا مگرافاقہ نہ ہونے پر اگلے دن اسے فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کیجولٹی یونٹ لے گیا جہاں ڈاکٹر جہانگیرنے مریض بچے کو چلڈرن سرجیکل یونٹ ریفر کیا مگر پیڈیاٹرک سرجیکل یونٹ میں ڈاکٹر جہانگیر نے اس کا ایکسرے کرکے اسے معمولی بیماری قراردیکر گھر بھیج دیا۔ اسی دن رات گیارہ بجے محمد فرحا ن کو شدید درد ہونے لگا اور چھوٹا پیشاب بھی بند ہوا جسے فوری طور پر LRH لے گئے اور رات کو بھی صبح والا ڈاکٹر یعنی جہانگیر ڈیوٹی پر تھا اس نے ایک بار پھر اسے چلڈرن سرجیکل یونٹ کو ریفر کیا جہاں ڈاکٹر اصغر نواز، ڈاکٹر محمد فیاض، ڈاکٹر جہانگیر وغیرہ ڈیوٹی پر معمور تھے، انہوں نے رات ایک بجے فرحان کو دوبارہ گھر بھیجا اور اس کا نہ آپریشن کیا نہ داخل کیا۔
اسے گھر لایا گیا دو اگست کو اسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس صبح او پی ڈی لے گئے جہاں انکشاف ہوا کہ اس کا اپنڈکس پھٹ گیا ہے اور اسے سرجیکل اے یونٹ میں داخل کیا گیا۔ فرحان کے والد نے ڈاکٹر صدیق چترالی کو فون کرکے درخواست بھی کی کہ اس کے بیٹے کا اپنڈکس پھٹ چکا ہے اور فوری طور پر اس کی آپریشن کا بندوبست کیا جائے جس نے یقین دہانی تو کرائی مگر ہسپتال جاکر مریض کا معائنہ تک نہیں کیا۔
شام کے وقت کافی دیر بعد فرحان کا آپریشن چند جونیئر ڈاکٹروں نے کیاجو ناکام ہوا اور اسے ICU ریفر کیا گیا مگر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں بیڈ خالی نہیں تھی اسے اگلے دن خیبر ٹیچنگ ہسپتال KTH لے گئے جہاں وہ ایک گھنٹے کے بعد انتقال کرگئے۔
اس کے والد نے ان ڈاکٹروں کے حلاف متعلقہ تھانوں، ایس پی کینٹ، ایس پی سٹی، انسپکٹر جنرل آف پولیس کو درخواستیں دئے مگر ڈاکٹروں کیخلاف FIR درج نہیں کیا گیا جس پر اس کے والد نے عدالت سے رجوع کیا۔عدالت نے حکم دیا کہ ان ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے مگر اس باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ بعد ازاں ایس ایچ او تھانہ خان رازق شہید کے ایس ایچ او انسپکٹر محمد نور کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا جس پر انہوں نے ایف آئی آر تو درج کیا مگر کسی ملزم کا نام تک درج نہیں کیا اور ہسپتال کے عمارت پر مقدمہ درج ہوا۔ اس کے بعد اس کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن جمع کیا۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ابراہیم اشتیاق پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے حکم سنایا کہ ان ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور ایس ایس پی آپریشن کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف قانونی کاروائی کرے کہ اس نے کیوں بروقت مقدمہ درج نہیں کیانیز PMDC کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ان ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔
فرحان مرحوم کے والد گل حماد فاروقی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ گذشتہ پچیس سالوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں مگر اتنی کوشش کے باوجود اسے انصاف نہیں ملا۔ محکمہ صحت کے سیکرٹری، ڈی جی اور وزیر اعلی کو بھی متعد د درخواستیں دئے مگر ابھی تک ان ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں از خود نوٹس لے اور غفلت کے مرتکب ان ڈاکٹروں کو قرار واقعی سزا دلوادیں تاکہ آئندہ کسی اور کے ساتھ اس قسم کا زیادتی نہ ہو۔