71

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات غیر یقینی صورتحال سے دوچار،انتخابات میں تاخیر کا امکان


پشاور(میڈیا ڈیسک)خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا بروقت انعقاد غیریقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے، شدید سردی اور قبائلی و پہاڑی اضلاع میں برف باری خیبر پختونخوامیں بروقت بلدیاتی انتخابات کے آڑے آگئی جس کے باعث الیکشن کمیشن کی جانب سے دسمبر سے قبل بلدیاتی انتخابات کی ڈیڈلائن بھی خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات فروری یا پھر مارچ میں منعقد کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ بلدیاتی نظام کی مدت 28اگست کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017کے مطابق الیکشن کمیشن آئندہ 120روز کے اندر اندر نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کے سلسلے میں متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا پر واضح کردیا ہے کہ انتخابات بروقت ہی منعقد کرائے جائیں تاہم خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں سمیت قبائلی اضلاع میں شدید سردی اور برف باری کے باعث بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کھٹائی میں پڑگیا ہے۔اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 28اگست کے بعد اگر صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بروقت انتخابات کیلئے ہر ممکن کوشش کرے تو بلدیاتی انتخابات نومبر کے وسط کے بعد ہی ممکن ہو سکیں گے تاہم اس وقت قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں برف باری کے سیزن کا آغاز ہو چکا ہوگا جس کے باعث انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات سردیوں کے بعد کرانے پر غور کررہے ہیں جس کیلئے ممکنہ قانونی راستہ بھی اختیار کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے تاہم انتخابات میں دو سے ڈھائی ماہ تاخیر کو قانونی تحفظ دینے کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی سے اس کی منظوری لی جائیگی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات میں دوسے ڈھائی ماہ کی تاخیر کیلئے راضی کیا جا سکے گا۔ دوسری جانب نئے بلدیاتی نظام کی مدت 4سال ہونے کے بعد انکی مدت مکمل ہونے کا وقت موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مدت کے ساتھ قریب ہونے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ فروری یا مارچ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے بعد 2023میں عام انتخابات اور 2024میں بلدیاتی انتخابات کے مابین کوئی تصادم بھی نہیں ہو گا۔ واضح رہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے اپنے قانون میں نئے بلدیاتی انتخابات کیلئے ایک برس تاخیر کی منظوری ایوان سے حاصل کر رکھی ہے جبکہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور اس پر حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے جس کے بعد دونوں صوبوں میں بروقت بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہو سکے ہیں۔