64

بلین ٹری سونامی نرسری بریر نسار کے مزدوروں کا تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فارسٹ آفس میں احتجاج

چترال(محکم الدین)حکومت کی طرف سے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت بریر نسار میں پودوں کی نرسری میں کام کرنے والے مزدوروں نے گذشتہ روز محکمہ جنگلات کے ضلعی دفتر دنین چترال میں شدید احتجاج کیا۔ مزدوروں نے کہا کہ عید ا لاضحی سے پہلے اگر ان کی مزدوری ادا نہیں کی گئی تو وہ خود سوزی پر مجبور ہو جائیں گے اور ایسی صورت میں حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ اس موقع پر تیس مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہوئے شیر باز خان،اختر حسین،ظاہرالدین اوراسرارالدین نے کہاکہ گذشتہ مارچ کے مہینے سے وہ بریر نسار نرسری میں کام کر رہے ہیں لیکن ابھی تک بار بار فارسٹ آفس کے چکر لگانے کے باوجود حکومت کی طرف سے انہیں ان کی مزدوری ادا نہیں کی گئی ہیں اور وہ مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کے چولہے ٹھنڈیپڑ گئے ہیں،گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے کیونکہ اب دکاندار بھی کھانے پینے کی اشیا ء قرض نہیں دیتے اور پہلے لئے گئے قرضوں کا تقاضہ کرتے ہیں، اس لئے وہ سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہاکہ عید پر کپڑوں کا تصور کرنا دور کی بات کھانے تک کی کوئی چیز دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے انصاف کی تمام دھجیاں اڑا دی ہیں،زندگی میں کسی بھی حکومت میں فاقوں کی نوبت نہیں آئی تھی آج ہم کھانے کوترس رہے ہیں۔مزدوروں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چھ مہینے گزرنے کے باوجود مزدور کوان کی مزدوری نہ ملے اور ان کے بچے عید کے دن بھی نئے کپڑوں اور کھانے پینے سے محروم ہوں۔انہوں نے پر زور مطالبہ کیاکہ ان کی مزدور ی کی رقم جلد ادا کئے جائیں اور انہیں مزید احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس قسم کے مسائل ضلع بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور کئی نرسریوں میں مزدورں کو ادائیگی نہیں کی گئی ہیں جبکہ فارسٹ کے آفیسران یہ مشکلات خود سہتے آرہے ہیں۔ حکومت بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مزدوروں کی مزدوری اداکرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔