90

لاوی دروش میں 2ہزار ایکڑ سرکاری اراضی کی موجودگی کا دعویٰ قطعاً بے بنیاد ہے/مقامی باشندگان

چترال(بشیر حسین آزاد)لاوی دروش کے باشندگان نے انکے گاؤں میں دو ہزار ایکڑ سرکاری اراضی کی موجود گی کے حوالے سے خبر بے بنیاد ہے لہذا حکومت اس غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر کوئی وجہ نہ دے۔گذشتہ روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاوی دروش کے باشندگان مولانا صابراللہ، مفتاح الدین، حمید الرحمن،ذولفقار احمد، عبدالاکبر، نورحاجی خان اور دیگر نے حکومت خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے علاقے کے خود ساختہ راہنماؤں نے گاؤں میں دوہزار ایکڑ سرکاری زمین کے بارے میں جو دعویٰ کیا ہے وہ قطعی بے بنیاد ہے، ایسے عناصر منفی پراپیگنڈے کے ذریعے علاقے میں افراتفری پھیلانے کے درپے ہیں۔ انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ لاوی گاؤں میں ابپاشی کے لئے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے اراضی کا بڑا حصہ زیرزیادہ تر بنجر رہتا ہے اور صرف بارشوں کی بہتات کے سال اسے زیر کاشت لاتے ہیں لیکن چند عناصر نے ان کے غیر زیر کاشت زمینات کو سرکاری قرار دینے کے لئے میڈیا میں بیانات جاری کررہے ہیں۔انہوں نے اس بات پرحیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خورشید احمد،ناصر محمود،لیکچرار غنی الرحمن اور خیرالاعظم گاؤں کے احاطے میں واقع دوسروں کی ملکیتی اراضی کو سرکاری قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن گاؤں کی حدود سے باہر جنگل کے قریب وہ خود کئی ایکڑ اراضی پر قابض ہوکر اسے اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں جوکہ ان کی دوغلاپن کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ لینڈ سیٹلمنٹ کے وقت انہوں نے متعلقہ اسٹاف کے سامنے اپنی ملکیت کو ثابت کیا تھا جس پر یہ اراضی ان کے نام پر درج بھی ہوئے ہیں لیکن یہ شرپسند عناصر ان کو آبائی جائیداد سے محروم کرنے کی مذموم کوشش کرکے انہیں ہراسان کررہے ہیں جس کا پی ٹی آئی حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ عناصر اپنے حصے کی اراضی پہلے ہی فروخت کرچکے ہیں جس پر 35سے زیادہ خاندان باہر سے آکر آبادہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لاوی پاؤر پراجیکٹ میں ان کو زمینات کا معاوضوں کو ادائیگی بھی فوری طور پر کی جائے جوکہ اس شوشے کی وجہ سے روک دئیے گئے ہیں جبکہ مخالفین بہت پہلے اپنے حصے معاوضے لے چکے ہیں اور انہی پیسوں کی بل بوتے پر ان کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔