43

دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں تین روزہ میلے کا آغاز ہو گیا،بڑی تعداد میں سیاحوں کی شرکت

چترال (محکم الدین)دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں تین روزہ جشن شندور کا آغاز آج اتوار کے روز ہو رہاہے جسمیں روایتی حریف چترال اور گلگت کی پولو ٹیمیں آپس میں ٹکرائینگے۔ 12500فٹ بلندی پر واقع شندور کے سیاحتی مقام پرافتتاحی روز حسب روایت غذر اور لاسپور کے مابین شندور پولو فیسٹول کا افتتاحی میچ پولوگراونڈ شندور”ماہوران پاڑ“میں کھیلا جائے گا۔یہ دنیا کی وہ فری سٹائل پولو ٹورنامنٹ ہے جسے دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں ملکی وغیر ملکی سیاح اور مقامی شندور میں جمع ہوتے ہیں اورجھیل کنارے خوبصورت نظاروں کے ساتھ چوگان بازی کا لطف اٹھاتے ہیں۔تین روزہ شندور پولو میلہ 7سے 9جولائی تک جاری رہے گاجس میں گلگت اور چترال کی طرف سے پانچ،پانچ ٹیمیں مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے سیا حوں کو ای ویزہ کی سہولت فراہم کرنے اوردہشت گردی کے دوران جا بجا مقامات پر چیک پوسٹ قائم کرکے سیاحوں کی تکلیف دہ چیکنگ کا عمل ختم کرنے کے بعد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ شندور فیسٹول میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے متوقع دورہ چترال کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے آفیسران کی بڑی تعداد اپنی فیملیز سمیت چترال پہنچ گئے ہیں اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کالاش ویلیز ودیگر سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ دفاتر کا بھی وزٹ کر رہے ہیں تاکہ سرکاری کھاتے کو بھی درست کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق شندور میں اس سال سیاحوں کی تعداد سابقہ تمام فیسٹولز سے زیادہ ہے جبکہ ابھی فیسٹول کے بالکل ابتدائی دن ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لو گ سیمی فائنل اورفائنل میچ دیکھنے کیلئے آخری دنوں میں شندور پہنچتے ہیں۔اس مرتبہ سیاح اور مقامی تماشائی خواتین شندور پہنچ چکی ہیں جن میں کالاش خواتین بھی شامل ہیں۔شندور کے پہاڑوں کے دامن میں جنگل میں منگل کا سماں ہے اور گاڑیوں کے قافلے مسلسل شندور کی طرف رواں ہیں جن کی اڑتی دھول اور گرد و غبار سے روڈ سائیڈ پر رہنے والے لوگ تنگ آچکے ہیں اور کچی سڑک پر سفر کرنے والے مسافر بھی گرد و غبار کی وجہ سے پہچاننے کے قابل نہیں ہوتے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہماری تمام حکومتیں احساس سے عاری ہیں،1982سے مسلسل شندور فیسٹول منایا جاتا ہے،ہر مرتبہ ملک کا کوئی نہ کوئی سربراہ آجاتا ہے لیکن ان کو یہ سڑک پختہ کرنے کی توفیق اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شندور پہنچتے ہیں اسلئے ان کو سیاحوں اور مقامی لوگوں کی مشکلات کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔ شندور فیسٹول پر گذشتہ سال براہ راست فنڈ تقریبا چار کروڑ روپے خرچ کئے گئے، اب کی بار یہی فنڈ تقریباً دگنا کر دیا گیا ہے جبکہ فیسٹول میں شرکت کرنے والے آفیسران کی گاڑیوں اوردیگر اخراجات پر اٹھنے والے حکومتی فنڈ اس کے علاوہ ہیں۔شندور فیسٹول میں شرکت کے لئے سیاح جنید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے افسو س کا اظہار کیاکہ چترال کے موجودہ سڑکوں کے ہوتے ہوئے سیاحت کے فروغ کی دعوے بالکل احمقانہ اور سیاحوں کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔