92

شاخ تراشی مہم مکمل؛ بجلی کے ناروا لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بھرپور عوامی احتجاج شروع کیا جائیگا

چترال(بشیر حسین آزاد) چترال میں 19جون سے جاری محکمہ پیسکو کی طرف سے شاخ تراشی مہم کی گذشتہ دنوں اختتام کو پہنچی۔ اس دوران چار گھنٹوں کے لئے روزانہ کی بنیاد پر جوٹی لشٹ فیڈر سے صبح9سے 1بجے اور ایکسپریس فیڈر سے 1بجے دوپہر سے 5بجے سہ پہر تک شاخ تراشی مہم کی وجہ سے بجلی بند کی جارہی تھی۔جبکہ گذشتہ اتوار کے روز ایکسپریس فیڈر سے بجلی کو 1بجے بند کرنے کے بجائے صبح آٹھ بجے بند کی گئی اور بتایا گیا کہ شاخ تراشی کے عمل کو مکمل کرنے کی غرض سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا۔شاخ تراشی مہم کے تحت بجلی بند کرنے کی وجہ سے شدید گرمی کے ایام میں صارفین کوانتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔چترال میں بجلی کی وافر مقدار کی موجودگی اور بلوں کی باقاعدہ ادائیگی کے باوجود کئی بار بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جسے ختم کرنے میں ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی اور اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی وزیرزادہ نے مختلف موقعوں پر وفاقی وزیر بجلی وپانی اور چیف ایگزیکٹیو پیسکو سے ملاقاتیں بھی کیں جس کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کے بجائے لوڈشیڈنگ میں تھوڑی بہت کمی ہوئی۔ شاخ تراشی مہم کے وجہ سے چترال آل ناظمین فورم نے عوام سے صبر کرنے کی اپیل کی تھی اور اس مہم کی تکمیل کے بعد لوڈشیڈنگ جاری رکھنے کی صورت میں عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ایک اخبار ی بیان میں آل وی سی ناظمین فورم کے صدر سجاد احمد خان نے کہا ہے کہ شاخ تراشی مہم ختم ہوگئی، اس کے بعد اگر محکمہ پیسکو یا گرڈ اسٹیشن جوٹی لشت سے دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی گئی تو وی سی ناظمین فورم کی طرف سے کئے گئے فیصلے کے مطابق پیسکو دفتر کو تالہ لگانے کے ساتھ ساتھ گرڈ اسٹیشن جوٹی لشٹ کا گھیراؤ کیا جائے گااورکسی بھی ناخوشگوا ر صورت حال کی ذمہ داری محکمہ پیسکو اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔اُنہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ضمن میں بھرپور احتجاج کیلئے تیار رہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع چترال کے لئے 35میگاواٹ بجلی مختص کی گئی ہے۔ صارفین بجلی بلوں کی باقاعدہ ادائیگی کررہے ہیں اور چترال میں بجلی چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کے باوجود بھی بجلی بلوں کی عدم ادائیگی کا بہانہ بناکر صارفین کو بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے اور محکمہ ہذا کو بڑی حد نقصان پہنچایا جارہا ہے۔جبکہ ضلع بھر میں 8میگاواٹ سے بھی کم کا خرچہ ہے اور باقی بجلی پانی میں بہایا جارہا ہے۔اس پر محکمہ ہذ ا کے اعلیٰ حکام کو نوٹس لینے کی ضرورت ہیں۔