62

تحریک نوجوانان پاکستا ن کے چیئرمین محمد عبداللہ گل کی پریس کلب کے پروگرام مہراکہ میں خصوصی شرکت

چترال (محکم الدین) تحریک نوجوانان پاکستان و کشمیرکے چیئر مین محمد عبداللہ حمیدگل نے کہا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک ہے لیکن دشمن اسے مختلف سازشوں اور افواہوں کے ذریعے ناکام ریاست ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس لئے پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں کوان افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ چترال پریس کلب کے پروگرام ”مہرکہ“ سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ گل نے کہا کہ پاکستان میں اللہ پاک کا دیا سب کچھ موجود ہے،چار مختلف موسم، بہترین زرخیز زمین،معدنیات سے بھرے پہاڑ اور خوبصورت سیاحتی مقامات، قدیم کلچر اور افرادی قوت اس کے وہ خزانے ہیں جنہیں بہتر طور پر استعمال کرکے آج بھی ہم خود کفیل ہو سکتے ہیں اور ہمیں کسی سے بھی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک کو دیانتدارصاحب بصیرت اور سادہ شعار قیادت میسر ہومگر بدقسمتی سے ایسے قیادت سے یہ ملک آج تک محروم ہے۔محمد عبد اللہ گل نے اپنے خطاب میں کہاکہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی دیانتداری اور ملکی ترقی کیلئے ان کے جذبے پر شک نہیں کیا جا سکتالیکن اقتدار میں آ نے کے بعد ان لوگوں کو انہوں نے اپنے ساتھ شامل کرلیا جو شریک سفر نہ تھے، ان سے جس انقلابی تبدیلی کی توقع کی جارہی تھی وہ بری طرح متاثر ہوئی۔عمران خان کو اپنے ان ساتھیوں پر ہی انحصار کرنا چاہیے تھاجنہوں نے اپنے وسائل وقت اور جذبوں کی قربانی دی تھی۔انہوں نے کہاکہ موجودہ لوگ عمران خان کو ناکام کرنے کیلئے کافی ہیں۔عبداللہ گل نے کہاکہ پاکستان ایک عظیم ریاست ہے جس نے باوجود ایک بازو کے ٹوٹنے کے اس خطے میں اہم کردار ادا کیا۔روس کو سولہ ٹکڑوں میں تقسیم کیا.اور گرم پانیوں تک پہنچنے کی ان کی آرزو خاک میں ملادی اور ٹیکنیکی طور پر یہ جنگ پاکستان کی سرحدوں سے باہر لڑ نے میں کامیاب رہے جبکہ دوسری بار انکل سام کیارادے خاک میں ملادیے گوکہ یہ جنگ غلط پالیسی کی بنا پر ملک کے اندر داخل ہوئیاور بڑے پیمانے پر ہمیں جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑیتاہم ملک دشمنوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے یہ اس ملک کی عسکری صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے جسے پوری دنیا مانتی ہے اور بہت سے ممالک میں پاکستان کی ان جنگی کامیابیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو عسکری سکولوں میں بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے۔عبد اللہ گل نے کہاکہ پاکستان ایک نظریاتی اساس کا حامل ملک ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کے اسلامی تشخص کو جمہوریت اور سیکولرزم کے لبادے میں متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہی اس کے مسائل کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بابائے قوم قائد اعظم کی کفایت شعاری،اور دیانتداری کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سادگی کو شعار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سادگی میں کامیابی ہے اور لوگوں کے ساتھ اپنائیت پیدا کرکے محبت کا برتاؤ کرنا چاہئے۔عبداللہ گل عدالتوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج عالم یہ ہے کہ عوام کا اعتماد عدالتوں پر سے اٹھ چکا ہے کیونکہ عدالتیں عوام کو انصاف فراہم نہیں کر رہیں جبکہ ہمارے وزیر اعظم ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں حال یہ ہے کہ سود کو فروغ دیا جارہا ہے اور اللہ کے واضح احکامات کو روزانہ توڑا جا رہا ہ ے اور دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔


عبداللہ حمید گل نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں کیونکہ مستقبل نوجوانوں کا ہے اس لئے اپنی شناخت برقرار رکھیں بصورت دیگر مغربی سحر خیزیوں میں شناخت گم ہوجائے گاہمیں سوچناچاہیے کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھااور ہم اللہ پاک سے اپنے کئے وعدے کہاں تک پورے کر سکے۔ہم نے تو اس کو وہ پاکستان بھی نہیں رہنے دیاجس کے تجربات سے سبق سیکھ کر چین اور کوریا ترقی کی بلندیوں تک پہنچ گئے اس کے باوجود بھی ڈگمگاتی یہ ناؤ دشمنوں کی انکھوں میں کھٹکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں دوبارہ ایک عظیم ملک بنانا ہو گاجس میں انصاف ہولوگوں کو روزگار اور عزت کے زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوسکیں اور وہ با اثر لوگوں کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں اسلئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام نوجوان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تاکہ مشتر کہ جدوجہد کے ذریعے قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ چترال کے لوگ ان کیمرحوم والد جنرل حمید گل سے دلی محبت وعقیدت رکھتے ہیں چترال کے لوگ انتہائی باشعور ہیں۔ ان سے محبت یقینا ملک کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں کی جاتی ہے جنہوں نے اپنی عسکری زندگی میں ملک کیلئے وہ کام کئے جو ملک کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔پروگرام کے دوران وقاص احمد ایڈوکیٹ،پروفیسر فداالرحمن،صلاح الدین صالح،محکم الدین وغیرہ نے سوالات کئے جن کے مہمان عبد اللہ گل نے جوابات دیے۔ پریس کلب کے زیر اہتمام اس خصوصی پروگرام میں رہنما پاکستان تحریک انصاف چترال رحمت غازی،رجسٹرار چترال یونیورسٹی ڈاکٹر تاج الدین، اعزازی مہمان اور ڈاکٹر حبیب الرحمن نے تلخیص کار کے فرائض انجام دیے۔مہراکہ میں چترال کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ صدرپریس کلب ظہیر الدین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیاجبکہ بہاراحمد نے مہمان سپیکر محمد عبداللہ کا تعارف پیش کیااور ان کے والد گرامی معروف عسکری شخصیت جنرل حمیدگل مرحوم کی پاکستان کیلئے خدمات اور چترال سے ان کی دلی محبت پر روشنی ڈالی۔