47

وزیراعظم کی طرف سے صحابہ کرامؓ کی گستاخی ناقابل معافی ہے؛ مولانا عبدالرحمن

چترال(محکم الدین)جمعیت علماء اسلام ضلع چترال لوئر کے امیر و سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن اور ضلعی جنرل سیکرٹری حافظ انعام میمن نے کہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان نے صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخی کی ہے جوکہ قابل مذمت اور ناقابل معافی ہے۔ چترال میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے راہنماؤں نے کہا کہ تبدیلی دعویداروں نے لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے، آئی ایم ایف کی ہدایت اور اسکی خواہشات کے مطابق بجٹ ترتیب دے کر عوام پر مہنگائی بم گرایا گیا ہے، ٹیکسوں کی بھرمار کردی گئی اور ملک کو معاشی عدم استحکام کا شکار کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں اس حکومت کا بوریہ بستر گول کرنا عین عوامی اور ملکی مفاد میں ہے کیونکہ اگر موجود حکمران مزید برسر اقتدار رہے تو ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو جائیگا۔ مولانا عبدالرحمن نے کہاچترال میں جماعت اسلامی اور جمعیت کا اتحاد مثالی ہے اور ان دونوں جماعتوں کے اتحاد کے نتیجے میں ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں بھی ان دونوں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا،اس حوالے سے چترال کے مخصوص حالات کا ادراک دونوں جماعتوں کے صوبائی اور مرکزی قائدین کو بھی ہے اور وہ چترال کی حد تک انتخابی اتحاد کے حوالے سے مقامی قیادت کے فیصلے پر متفق ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے ملک گیر سطح پر قائم رہنی چاہئیے اور میں ذاتی طور پر اس کے حق میں ہوں۔ مولانا عبد الرحمن نے کہاکہ گذشتہ الیکشن میں عوام نے ایم ایم اے کو بہت سپورٹ کیاخصوصاً اسماعیلی کمیونٹی کا کافی ووٹ ایم ایم اے کے امیدواروں کے حق میں استعمال ہوا،یہی وجہ ہے کہ ایم ایم اے کے امیدواروں کو کامیابی ملی۔ ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 2015 کے انتخابات میں میرا موقف صحیح تھالیکن یہ گھر کے اختلافات تھے جنہیں اب دور ہونے چاہیں، چاہے وہ حلیف پارٹی جماعت اسلامی کے بھائیوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہوں یا خود جمعیت کے ساتھیوں کی رائے سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں۔انہوں نے کہاکہ میں عنقریب ان ساتھیوں اور دوستوں سے ملنے کیلئے گھر گھر جاؤں گااور ان کے دلوں میں اگر کوئی خلش یا شکوے موجود ہیں تو انہیں دورکرنے کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کا موجودہ بلدیاتی نظام ناقص ترین نظام تھا،اس عرصے میں ممبران ڈسٹرکٹ کونسل نے جو مصائب برداشت کئے وہ ناقابل بیان ہیں،اب ایک اور بلدیاتی نظام متعارف کی جارہی ہے اور یہ لوگوں کو مزید مصائب و مشکلات سے دوچار کرے گا۔اس نظام اور اس حکومت سے بہتری اور خیر کی توقع نہیں اور موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات بھی ممکن نظر نہیں آتے۔