81

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس؛چترال کی وکلاء برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا

چترال(محکم الدین)حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لوئر چترال کے زیر اہتمام وکلا ء کا ایک احتجاجی جلسہ بازار پل چترال میں منعقد ہواجس کی صدارت ممتاز قانون دان صوبائی بار کونسل کے ممبر عبد الولی ایڈوکیٹ نے کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء محمد عظیم بیگ ایڈوکیٹ،غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ،برہان شاہ ایڈوکیٹ،ساجد اللہ ایڈوکیٹ، عالمزیب ایڈوکیٹ،نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ،محمد کوثر ایڈوکیٹ،صدر ڈسٹرکٹ بار خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ اور ممبر صوبائی بار کونسل عبد الولی ایڈکیٹ نے کہا کہ کٹ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت اب اپنی تمام ناکامیوں کے بعد عدلیہ پر وار کرنے کا آغازکیا ہے اور پس پردہ سپورٹر زکی ایما ء پر یہ تمام تر کام کیا جارہا ہے تاکہ عدلیہ کے اندر دیانتدار ججز کو بدنام کیا جائے اور اپنے من پسند ججز کے ذریعے مرضی فیصلے حاصل کریں۔انہوں نے کہاکہ جسٹس فائز عیسی ایک بہادر اور دیانتدار جج ہیں جس نے فیض آباد دھرنے کے پیچھے محرکات کو بے نقاب کیا اور آج اس کی پاداش میں جسٹس موصوف کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر حکومت اور پس پردہ سپورٹرز کی کارستانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک دوبارہ انتشار افرا تفری کا شکار ہے اور ایسا کرنے میں بعض اداروں کا ہاتھ ہے جو اپنے لئے اقتدار میں آنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت 1970کے بعد سب سے ناکام حکومت ہے،پوری دنیا میں موجودہ وزیر اعظم کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جاتاکیونکہ خود کٹ پتلی وزیر اعظم صبح اپنے کہے الفاظ شام کو واپس لیتے ہیں،ایسے حکمران پر کون اعتماد کرے گا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ظالم ہے،اس نے غریبوں کا جینا حرام کر دیا ہے اس لئے اس کو مزید رہنے کاکوئی حق نہیں۔

انہوں نے اب عدلیہ کے دیانتدار ججوں کو بدنام کرنا شروع دیا ہے اور جسٹس عیسیٰ کو نادیدہ قوتوں کے کہنے پر ہٹانے کی سازش کی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے تحریک لبیک کو استعمال کرنے والی قوتوں کی حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا۔ مقررین نے کہا کہ وکلا ء کی یہ تحریک تھمنے والی نہیں ہے اور وکلا کسی صورت جسٹس فائز عیسی کو ہٹانے کے اقدامات پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسل کا بھر پورساتھ دینے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس میں پاکستان کے 456 افراد شامل ہیں مگر موجودہ حکومت نواز شریف،آصف علی زرداری کے پیچھے پڑا ہوا ہے جبکہ ان کے علاوہ دیگر افراد ان کو نظرہی نہیں آرہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد تمام اشیا ء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،صرف دشنام طرازی گالی گلوچ سستا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی ا س لئے ا س حکومت کے دن اس کے ظلم کی وجہ سے پورے ہوچکے ہیں۔بنی گالہ 375کینال زمین پر قبضہ کرنے والا غریبوں کی جھو نپڑ یوں تک گرا رہا ہے اور اپنی بہن علیمہ خان کی کرپشن چھپانے کیلئے ایمنسٹی تک کی سہولت دے چکا ہے جو کہ اسکی دیانتداری عیان کرنے کیلئے کافی ہے۔جلسے سے جماعت اسلامی کے امیر مولاناجمشید احمد،معروف شخصیت سابق ایس پی محمد سید خان لال اور صدر پریس کلب ظہیر الدین نے بھی خطاب کرکے وکلا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔