74

ہسپتالوں کی نجکاری سے غریب عوام متاثر ہونگے، صوبائی حکومت پالیسی پر نظر ثانی کرے/مولانا فتح الباری

چترال(جہانگیر جگر)جمعیت علماء اسلام ضلع اپر چترال کے نائب امیر مولانا فتح الباری نے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے حوالے خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پالیسی غریب عوام کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ یہاں جاری کئے گئے اپنے ایک اخباری بیان میں مولانا فتح الباری نے کہا کہ حکومت کے اس پالیسی کی وجہ سے غریب عوام گوناگوں مشکلات سے دوچار ہوجائینگے، عوام کو فائدے کے بجائے نقصان اٹھانے گا۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں تین ہسپتالوں کی نجکاری ہوکر انہیں ایک این جی او کے حوالے کیا گیاتھا جس کا تجربہ چترال میں ہوچکا ہے،مذکورہ این جی او نے ان ہسپتالوں کواپنا مقبوضہ قرار دے کراو پی ڈی ڈاکٹرز کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کیساتھ ساتھ دوائیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر کے عوام کے لیے مشکل بنا دیا ہے اس طرح عوام کی چمڑی اتارنے سے عوام روز روز شکایت کر کے عاجز آچکے ہیں۔مولانا فتح الباری نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا کہ چترال کے تین ہسپتال جو کہ ایک این جی او کو دئیے گئے ہیں انہیں بھی واپس سرکار کی تحویل میں لیا جائے۔ بصورت دیگر عوام سراپا احتجاج ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور محکمہ صحت پر عائد ہوگی۔