69

کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ڈویژنل اکاؤنٹنٹ پر کرپشن کا الزام عائد کرتےہوئے چترال سے تبادلے کا مطالبہ کر دیا

چترال(محکم الدین)کنٹریکٹر زایسو سی ایشن چترال کے عہدیداران نے ڈویژنل اکاؤنٹ آفیسر چترال پر بد عنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے انکے خلاف انکوائری اور چترال سے تبادلے کا مطالبہ کردیا ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنٹریکٹر ز ایسو سی ایشن چترا ل کے صدر نور محمد،فضل الرحمن،حاجی محمد خان،امیراللہ،امان اللہ، جاوید اخترو دیگر نے کہاکہ ماہ فروری سے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ چترال میں ڈویژنل اکاؤنٹنٹعمران کو تعینات کیا گیا ہے،تب سے اس شخص کے ہاتھوں تمام ٹھیکہ داروں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور کوئی بھی جائز بل بغیر رشوت کے پاس نہیں ہو رہاجبکہ رشوت دے کر ناجائز کام بھی کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موصوف مہینے میں صرف تین دن رشوت سمیٹنے کیلئے چترال آتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ مذکورہ سرکاری اہلکار کرپشن اور بد دیانتی کے علاوہ لوگوں کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آنے میں بھی انتہا کرتے ہیں اور اخلاقیات کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے،یہی وجہ ہے کہ چترال کے شریف لوگ خصوصا ٹھیکہ دار برادری ان کے نامناسب رویے اور کرپشن سے تنگ آچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ موصوف ببانگ دھل اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بل پاس کرنے کیلئے جو اضافی رشوت وہ وصول کرتے ہیں اس میں بالائی افسران کا بھی حصہ ہے اور رشوت نہ دینے کی صورت میں مختلف بہانوں سے بل میں کیڑے نکال کر واپس کرتے ہیں۔ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں نے کہا کہ اکاؤنٹ سیکشن ایک مکمل گینگ بن چکا ہے جسے تبدیل کئے بغیر ٹھیکہ دار برادی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کرپشن کے خاتمے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی کھلے عام کرپشن موجود ہے جس کی مثال مذکورہ اکاونٹنٹ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے.جن کے کرپشن سے متعلق کئی واضح ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے کہاکہ فوری طور پر اس اکاونٹنٹ کو سیٹ سے نہیں ہٹایا گیاتو چترال میں بھر پور احتجاج کیا جائیگااور امن و امان کامسئلہ پیدا ہو گاجس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اے جی آفس خیبر پختونخوا کے افسران پر عائد ہو گی۔انہوں فوری طور پرمذکورہ ڈویژنل اکاؤنٹنٹ کے چترال سے تبادلے کا مطالبہ کردیا۔