106

کالاش تہوار چلم جوشٹ روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا، کثیر تعداد میں سیاحوں کی شرکت

چترال(محکم الدین)چترال کے حسین وادیوں میں رہنے والے کالاش مذہب کے پیروکار دنیا کی سب سے قدیم تہذیب وثقافت کے حامل قبیلے کا تہوار چلم جوشٹ انتہائی جوش و خروش کیساتھ منایا گیا اور جمعرات کو سب سے بڑے وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہوئی۔ کالاش برادری کے موسم بہار کے اس دلچسپ میلے سے لطف اندوز ہونے کیلئے بھاری تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح چترال آئے ہوئے تھے۔ گذشتہ پندرہ سالوں کے دوران سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر کالاش وادیوں میں منعقد ہونے والے مختلف میلے سخت سیکورٹی میں منائے جاتے رہے تاہم اس مرتبہ آزادماحول میں یہ تہوار منایا گیا جسکی وجہ سے اس رنگا رنگ اور دنیا کے منفرد تہوار کی رنگینیاں بڑھ گئیں۔ اس تہوار سے لطف اندوز ہونے کے لئے بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں نے علاقے کا رخ کیا جبکہ ماہ رمضان کے باوجود ملکی یونیورسٹیوں کے طلبا سمیت بڑی تعداد میں مقامی سیاح بھی شریک ہوئے۔ کالاش مذہبی تہوار چلم جوشٹ قدیم زمانے سے سردیوں کی طویل اور تکلیف دہ دنوں کے گزر جانے اور موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتاہے جس کے بعد مال مویشیوں کو،جن کی کالاش مذہب میں انتہائی اہمیت حاصل ہے،گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایا جاتا ہے اور دودھ سے بنی اشیا ء کی فراوانی ہوتی ہے۔کالاش قبیلے کے رسم کے مطابق فیسٹول میں گھروں کو مخصوص پھولوں سے سجایا گیا اور کا لاش دیوتا مالوش کے سامنے بکروں کی قربانی دی گئی۔مہمانوں کیلئے حسب روایت دودھ اور پنیر پیش کئے گئے اور ہر گاؤں میں ڈھول کی تھاپ پر لڑکے لڑکیوں اور مرد و خواتین نے رقص کا آغاز کیا۔تہوار کے موقع پر کالاش خواتین اور لڑکیوں نے چلم جوشٹ کیلئے خصوصی تیار کردہ مخصوص کشیدہ کاری والے روایتی کپڑے زیب تن کیے تھے جبکہ سیب گھونگوں سے تیار کردہ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں،اسی طرح مردوں اور بچوں کی تہوار کیلئے تیاری بھی دیکھنے کے قابل تھی۔تہوار کا سب سے منفرد اجتماع حسب روایت بمبوریت کے مقام بتریک میں ہواجہاں اطراف کے تمام دیہات کراکال،برون، انیژ،پڑواناندہ وغیرہ سے مردو خواتین ڈھول بجاتے گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے بتریک چھارسو (رقص کی مخصوص جگہ)میں داخل ہوئے اور اپنی بھر پور خوشی کا اظہار کیاجبکہ چھارسو میں کالاش مذہبی پیشوا اور بزرگوں نے کالاش قبیلے کے تاریخی کارناموں،بہادری کی داستانوں اور اسلاف کی خدمات کو مخصوص انداز میں گیت کی صورت میں پیش کیااور تاریخی واقعات نوجوان نسل کو منتقل کرتے ہوئے قبیلے کے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔

اس مرتبہ چلم جوشٹ میں کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ کی شرکت قبیلے کیلئے اعزاز کا باعث تھا۔ان کے ہمراہ اقلیتی ممبران صوبائی اسمبلی روی کمار اور رنجیت سنگھ بھی موجود تھے۔وزیر زادہ نے اس موقع پر صوبائی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے تہوار میں شرکت کرتے ہوئے کالاش قبیلے کو مبارکباد دی اور حکومت کا نیک پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پر امن ماحول میں کا لاش تہوار چلم جوشٹ منانا نہایت خوش آئند اور علاقے کی معاشی ترقی کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ سینکڑوں غیر ملکی سیاحوں کی فیسٹول میں شرکت موجودہ حکومت کی فروغ سیاحت کے حوالے سے مثبت پالیسی کے ثمرات کا آغاز ہے۔بڑی تعداد میں غیر ملکی اور ملکی سیاح گذشتہ ایک ہفتے سے مختلف کالاش وادیوں میں رہائش پذیر ہیں جس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ وزیرزادہ نے فیسٹول میں شرکت کرنے والے غیر ملکی اور ملکی مہما نوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلی محمود خان،منسٹر کھیل و سیاحت عاطف خان کے کردار کی تعریف کی اور ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا کی خدمات کو سراہا. وزیر زادہ نے کہاکہ کالاش تہذیب و ثقافت کی بقا ء کا سہرا حکومت پاکستان اور مقامی مسلم کمیونٹی کے بھر پور تعاون و تحفظ کے مرہون منت ہے اور یہ دنیا کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ایم پی ایز روی کمار اور رنجیت سنگھ نے اس موقع میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کالاش تہذیب اور چلم جوشٹ فیسٹول یقینا منفرد اہمیت کی حامل ہے اور انہیں اس میں شرکت کرکے انتہائی خوشی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہاکہ وادی کالاش کی سڑکیں یہاں کی سیاحت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اس لئے ان سڑکوں کی بہتری کیلئے ان سے جوبھی ہو سکاکردار ادا کریں گے۔ چھارسو میں کالاش کمیو نٹی کی طرف سے ایم پی ایز وزیر زادہ،روی کمار اور رنجیت سنگھ کو کالاش مخصوص چوغہ چپان اور چترالی ٹوپی پہنائے گئے۔ تہوار میں ٹی سی کے پی کی طرف سے سیاحوں کیلئے خیمہ بستی کا انتظام بھی کیا گیا تھا.یونکہ مقامی ہوٹل سیاحوں کیلئے پہلے ہی بک ہو چکے تھے۔ فیسٹول میں فرانسیسی سیاحوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ دیگر ممالک کے سیاح بھی کافی تعداد میں شریک ہوئے جنہوں نے چھارسو میں کالاش مرد و خواتین سے گھل مل کر رقص کیااور انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔