100

موجودہ حکومت اپنے دعوؤں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،حکومت اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے/سراج الحق

چترال(محکم الدین)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے موجودہ حکومت کے پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔چترال کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران جماعت اسلامی آفس چترال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو نو مہینے ہو گئے ہیں لیکن ہر روز عوام مزید مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے۔انہو ں نے اپنے کسی ایک وعدے پر بھی عمل نہیں کیا، سبز باغ دیکھا کر لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اس حکومت کو لانے میں بڑا کردار تھا مگر اب وہ بھی مایوس ہوگئے ہیں۔انہو ں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس ملکی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی ویژن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مختلف حیلوں اور بہانوں کاسہارا لینے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہے اور معیشت کو دلدل سے نکالنے کیلئے کچھ کرنے کے قابل نہیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں قانون سازی کرنے کی بجائے آرڈننس کے ذریعے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال جیسے دور دراز کے پسماندہ اضلاع کے لوگ اس حکومت میں انتہائی مشکل میں ہیں۔گذشتہ حکومت کے دوران سیلاب اور زلزلے میں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے پریشا ن ہیں، کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ اپر چترال ضلع کا اعلان کرکے لوگوں کو ایک اور مصیبت سے دوچار کر دیا ہے۔ ضلع کیلئے دفاتر نہیں اور نہ ملازمین کے بارے میں اقدامات نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال کی تقدیر بدلنے کیلئے اسے واخان کے راستے تاجکستان اور وسطی ایشیا سے لنک کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ تجارت کے فروغ سے علاقے کومعاشی استحکام مل سکے۔ اس حوالے سے ایم ایم اے کی حکومت نے پہلے ہی سروے کیا ہے جس پر صرف کام کرنا باقی ہے، اس روٹ سے چترال میں صنعتی انقلاب آئے گا۔ انہوں نے چترال تاجکستان فضائی سروس شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حکومت کی طرف سے چترال سی پیک روٹ کا اعلان کیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں عملی کام نظر نہیں آ رہے۔ یہ روٹ چترال، ملاکنڈ اور پشاور کی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال اپنی امن اور خوبصورتی کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ سے کم نہیں۔ اس حکومت کو سیاحت کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے اور سیاحوں کو سہولت دینے کیلئے لواری ٹنل اپروچ روڈ سمیت چترال کی دیگرسڑکوں کی بلاتاخیر تعمیر کی جانی چاہئیے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے ایک کروڑ ملازمتوں میں چترال کوحصہ دینے اور پچاس لاکھ گھروں کی تقسیم میں چترال کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ 2015کے سیلاب سے متاثرہ افراد دوبارہ بحال ہو سکیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گذشتہ الیکشن بالکل آزادانہ نہیں تھے بلکہ ان لوگوں کو ایک منصوبے کے تحت لایا گیا ہے جس کا اعتراف خود پی ٹی آئی نے کیا ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ ہم اس حکومت کے خلاف ایوان کے اندر اور باہر دونوں میدانوں میں اسکے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں تاہم یہ حکومت خود اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے اور اس کیلئے کسی بڑے جدو جہد کی ضرورت نہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد بھی موجود تھے۔

اس سے قبل امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سنگور میں قائم جامعہ اقامت دین میں ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں صوبائی نائب امیر جماعت اسلامی صابر حسین،مولاناڈاکٹر عطا الرحمان، ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی، ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ، ضلعی امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد،خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان ،مولانا شیر عزیز ودیگر شامل تھے۔