93

چترال میں ایک ہفتے کے دوران پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دوسرا جلسہ،ہزاروں لوگوں کی شرکت

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال میں بھارت کے خلاف اور افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور ایک زبردست جلسہ منعقد ہوا جسمیں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کیں۔جلسہ میں شرکت کے لئے لوگ دور دراز علاقوں سے انتہائی جوش اور جذبے کے ساتھ آئے تھے۔مختلف علاقوں سے ریلیاں ملی نغموں اور جنگی ترانوں کی گونج میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے چترال شہر پہنچ گئے جسکے بعد بائی پاس روڈ پر ایک بہت ہی عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا،اس موقع پر چترال بھر میں سبز ہلالی پرچم کا بہار نظر آیا۔ پاک فوج کے ساتھ اظہار محبت اور یکجہتی اور بھارت کے متعصبانہ اقدامات وجنگی جنون کے خلاف ہونے والے اس جلسے سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن،ضلع ناظم مغفرت شاہ،ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبدالطیف ،معروف شخصیت قاری جمال عبدالناصر،مولانا عبدالرحمن،محمد کوثر ایڈوکیٹ،قاضی سلامت،محمد عمیر قریشی اور وقاص احمد ایڈوکیٹ نے جلسے سے خطاب کیا۔ مقررین نے بھارتی حکومت کے جنگی جنون کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار اپنی جنونیت کی وجہ سے پورے خطے کو آگ کے شعلوں میں جھونکنا چاہتا ہے اور پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کی گیدڑ بھبکیاں دے رہا ہے مگر گذشتہ دنوں پاکستان ائیر فورس کی کاروائی کے بعد مودی اور اسکے مشیروں کے ہوش ٹھکانے آنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کے مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستانی افواج کے ساتھ کروڑوں پاکستانی عوام شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔مقررین نے کہا کہ پاکستان ہماری شناخت اور ہمارا سب کچھ ہے، اس ملک کی طرف میلی آنکھوں سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال لی جائینگی۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی حکمران نے اندازہ کر لیا ہوگا کہ انکا واسطہ کس سے پڑ رہا ہے کیونکہ گذشتہ دنوں پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا ج، اس کامیابی کے بعد رہتی دنیا تک پاکستانی افواج کی شان میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مقررین نے کہ وزیر اعظم عمران خان مذاکرات کی دعوت دے کر اور بھارتی پائلٹ کو آزاد کرنے کا اعلان کرکے جس بڑھے پن مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد موقع ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے کر اس سے فائدہ لے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ نکل جائے اور کف افسوس ملنا پڑے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہر مسلما ن کی یہ آرزو ہے۔ کہ شہادت کی موت نصیب ہو۔ اس لئے پاکستان کے تمام عوام اپنے ملک اور اسلام کی بقا کیلئے شہادت کو گلے لگانے کیلئے تیار ہیں۔ مقررین نے بھارتی حکومت اور میڈیا کی طرف سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بول کر اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ پاکستان اپنی کاروائی کا ٹھوس ثبوت جہاز گرا کر اور پائلٹ کو گرفتار کرکے پیش کیاہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت ابتک کے اپنے تمام دعوؤں کے سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔مقررین نے حکومت کی طرف سے بھارت کو بات چیت کی پیش کش کرنے کی حمایت کی ہے اور جنگ کو پورے خطے کیلئے تباہ کن قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے اور بھارت اسی زبان سے بات ماننے کا عادی ہے۔ ریلی کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں ملک اور پاک فوج کی حمایت میں اور بھارت کے خلاف نعرے درج تھے۔ جلسے کے دوران شرکاء کا جوش و جذبہ دیدنی تھااور چترال کی فضانعرہ تکبیر، پاکستان زندہ باد، مسلح افواج زندہ باد، بھارت اور نریندر مودی مردہ باد کے نعروں سے گونجتے رہے۔