109

چترال میں آتشزدگی؛ریسکیو ادارے کی کارکردگی اور کمپیوٹر سنٹر میں چوکیدار کا نہ ہوناسوالیہ نشان بن گئے

چترال(نامہ نگار)گذشتہ شب چترال شہر میں پولو گراؤنڈ کے قریب ایک مکان میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں ناکامی نے چترال ریسکیو 1122کے ادارے کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تبلیغی مرکز اور پولو گراؤنڈ چترال کے بالکل قریب ہی واقع مکان میں آگ لگنے کے فوراً بعد ریسکیو 1122کو اطلاع کر دی گئی مگر صرف چند منٹ کی مسافت پر واقع ہونے کے باوجود ریسکیو عملہ ایک تو تاخیر سے پہنچے اور دوسری طرف جائے وقوعہ پہنچنے کے بعد بھی صورتحال کو قابو کرنے کے حوالے سے انکی پیشہ وارانہ کمزوری عیاں ہو گئی ۔ فائر ٹینڈر میں پانی کی عدم دستیابی ، آگ بجھانے کے پائپ کی کمی سمیت ابتدائی طور پر صرف ایک چھوٹی گاڑی کو آگ بجھانے کے لئے بھیجنا اور اس گاڑی میں پانی نہ ہونا، دوسری گاڑی کے پائپ میں نقص ہونا کئی پیشہ وارانہ لاپرواہیوں کی نشاندہی کرتی ہے جسکی وجہ سے متعلقہ عملہ آگ پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ اعلیٰ حکام اس سلسلے میں تحقیقات کریں اور غفلت و لا پرواہی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کریں۔کیونکہ عوامی سطح پر یہ تاثر مزید پختہ ہورہا ہے کہ ریسکیو کا ادارہ اپنی فرائض منصبی ادا کرنے سے قاصر ہے۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ بنگلے میں کمپیوٹر سنٹر اور دستکاری سنٹر قائم تھے، ان اداروں میں چوکیدار کا نہ ہونا بھی غفلت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ سرکاری سطح پر تمام تعلیمی اداروں کو حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی ہدایات موجود ہیں مگر بعض ادارے ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔اگر اس ادارے میں چوکیدار موجود ہوتا یا اپنے ڈیوٹی پر الرٹ ہوتا تو فوری طور پر وہ ریسکیو کے علاوہ پولیس، لیویز اور چترال سکاؤٹس کو بھی مطلع کردیتا ۔