این ایچ اے حکام اور ارباب اختیار کے نام ایک دردمندانہ اپیل/تحریر؛ بہاراحمد آف برنس
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

چترال شندور روڈ پر برساتی نالوں کے اوپر پلوں کی بجائے محض چند سیمنٹ کے پائپ نصب کرنا نہ صرف فنی اعتبار سے ایک کمزور فیصلہ ہے بلکہ یہ مستقبل میں سڑکوں، گھروں اور متعدد دیہات کی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اگر آج اس مسئلے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو کل پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سیلابی نالوں میں پانی کے بہاؤ کے سامنے چند پائپ رکھ دینا کسی بھی صورت محفوظ حکمت عملی نہیں۔
خدانخواستہ شدید بارشوں اور سیلاب کی صورت میں نہ صرف شندور روڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ سڑک کے نیچے واقع آبادیوں اور دیہات کی زندگی اور املاک بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
اس حقیقت کا زندہ ثبوت استانگول کا واقعہ ہے، جسے این ایچ اے حکام اور چترال کے عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ وہاں سیلابی ریلے نے نہ صرف سڑک کو نقصان پہنچایا بلکہ گھروں کو بھی متاثر کیا، اور کئی سال گزرنے کے باوجود ملبے کے آثار آج بھی موجود ہیں۔
عوام کو یہ امید دلائی گئی تھی کہ ان نالوں پر پل تعمیر کیے جائیں گے، مگر افسوس کہ مقامی آبادی کی آواز اور تجربات کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ دنیا بھر میں بین الاقوامی ڈونرز ترقیاتی منصوبوں میں مقامی دانش (Indigenous Wisdom) کو اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ مقامی لوگ اپنے علاقے کے جغرافیے اور قدرتی خطرات سے بہتر آگاہ ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے بعض سرکاری ادارے اس اہم اصول کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چترال کے سیلابی ریلے پاکستان کے بیشتر دیگر علاقوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ دیگر اضلاع میں اکثر پانی کا ریلہ گزر جاتا ہے، مگر چترال میں سیلاب اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر، درختوں کے تنے اور پہاڑی ملبہ بھی لاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہ ریلے دریا کا رخ موڑ دیتے ہیں اور مضبوط حفاظتی پشتے بھی ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ برساتی نالوں میں پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے، نالوں کے نیچے جمع ملبہ باقاعدگی سے ہٹایا جائے تاکہ پانی کی رفتار برقرار رہے، دونوں اطراف مضبوط حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں، سیمنٹ کے پائپوں کی بجائے مناسب چوڑائی اور مضبوطی کے حامل پل تعمیر کیے جائیں، تاکہ بڑے پتھر، لکڑیاں اور ملبہ آسانی سے گزر سکے۔
جہاں کہیں بھی دیہات اور گھروں کے اوپر پلوں کے بجائے سیمنٹ کے پائپ نصب کرکے سیلابی ریلوں کا رخ آبادیوں کی طرف موڑنے کا خدشہ موجود ہے، وہاں اس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
ہمیں امید ہے کہ چترال کے معتبر اور قابل ترین عوامی نمائندے، خصوصاً سابق ایم این اے شہزادہ افتخارالدین، موجودہ ایم این اے غزالہ انجم، اور وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر عبدالولی خان عابد ایڈووکیٹ، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے کے وسیع تر مفاد میں اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دیں گے اور این ایچ اے کے ساتھ مل کر ایسا پائیدار حل یقینی بنائیں گے جو آنے والی نسلوں کو ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھ سکیں۔
ترقیاتی منصوبوں کا مقصد سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ مستقبل کے خطرات کو دعوت دینا۔ آج دانشمندانہ فیصلے ہی کل کے محفوظ چترال کی ضمانت ہیں۔