قانون کی بالادستی یا کمزوروں پر طاقت کا استعمال؟/تحریر: بہاراحمد
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

چترال میں چند نوجوانوں کے روزگار کے خاتمے پر ضلعی انتظامیہ کی کارروائی اور اب مختلف مقامی نیوز چینلز میں انتظامیہ کا موقف بھی سامنے آیا ہے جو کہ مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ قانون نافذ ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ قانون کا نفاذ کس انداز میں اور کن لوگوں پر کیا جا رہا ہے۔
اگر متعلقہ اراضی واقعی متنازعہ تھی اور اس پر حکومت، شاہی خاندان اور عوام کے مختلف دعوے موجود تھے تو یہ تنازعہ آج پیدا نہیں ہوا بلکہ برسوں سے یہی صورتِ حال چلی آ رہی ہے۔ اسی علاقے میں انتظامیہ خود ایک فریق کے ساتھ معاہدہ کرکے پارک قائم کر چکی ہے۔ متعدد ریسٹورنٹس، سروس سٹیشنز، دکانیں اور رہائشی تعمیرات بھی وجود میں آ چکی ہیں۔ اگر متنازعہ حیثیت ہی کارروائی کی بنیاد ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ قانون کا اطلاق صرف چند بے روزگار نوجوانوں تک کیوں محدود رہا؟
کیا قانون کی نظر میں سب برابر نہیں ہونے چاہئیں؟
مزید اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں تو انہیں تعمیر کے آغاز ہی میں کیوں نہیں روکا گیا؟ کیا انتظامیہ نوٹس جاری نہیں کر سکتی تھی؟ کیا مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا تھا؟ کیا ان نوجوانوں کو متبادل راستہ یا مناسب مہلت نہیں دی جا سکتی تھی تاکہ ان کی محنت، سرمایہ اور مستقبل برباد ہونے سے بچ جاتا؟ ریاست کا کام صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہے۔
قانونی اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فریقین کو عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
اگر ریاست خود اس تنازعے میں فریق ہے تو اس کے لیے زیادہ مناسب راستہ عدالت سے رجوع کرنا اور قانونی عمل کو آگے بڑھانا تھا، نہ کہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ طاقتور کے لیے ایک اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ قانون کی تلوار غریبوں پر زیادہ آسانی سے چلتی ہے جبکہ بااثر اور صاحبِ حیثیت افراد کے معاملات میں غیر معمولی نرمی اختیار کی جاتی ہے۔ یہی احساسِ محرومی عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے، اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور دلوں میں رنجشوں کو جنم دیتا ہے۔
ریاست کی مضبوطی صرف قوانین سے نہیں بلکہ انصاف کے یکساں اور غیر جانبدارانہ نفاذ سے قائم ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لے، متاثرہ نوجوانوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے امکانات پر غور کرے اور ایسا حل تلاش کرے جو قانون، انصاف اور انسانی ہمدردی تینوں تقاضوں کو پورا کرے۔
کیونکہ ایک مہذب ریاست کی پہچان صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ کمزور شہریوں کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔
اگر انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر نہ ہو تو قانون کی بالادستی کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے اور جب عوام کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ پیمانے ہیں تو اس کے نتائج کسی کے حق میں بھی خوش آئند نہیں ہوتے۔