شندور پولو فیسٹیول 2026؛کھیل، ثقافت اور روایات کا عظیم الشان اختتام/تحریر: بشیر حسین آزاد

سطح سمندر سے تقریباً 12،200 فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور مییں منعقد ہونے والا تین روزہ شندور پولو فیسٹیول 2026 اپنی تمام تر رعنائیوں، رنگینیوں اور جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
امسال بھی یہ تاریخی میدان مہم جوئی کے شوقین افراد، ثقافت کے دلدادہ سیاحوں اور پولو کے متوالوں کا مسکن بنا رہا۔ ہفتے کے روز فیسٹیول کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مقابلہ گلگت بلتستان اور چترال کی روایتی حریف ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس نے گلگت بلتستان کے لیے ایک تاریخی دن کا آغاز کیا کیونکہ جی بی نے طویل انتظار کے بعد شندور پولو کپ کا ٹائٹل 15 سالوں بعد اپنے نام کر لیا۔
اس سنسنی خیز فائنل کو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سمیت چترال اور گلگت بلتستان سے آئے ہوئے 25 ہزار سے زائد تماشائیوں نے دیکھا، اور میچ کا ہر لمحہ دلچسپ اور اعصاب شکن صورت اختیار کرتا گیا۔
بغیر قوانین کے کھیلے جانے والے اس روایتی "فری اسٹائل پولو” میں میچ کے پہلے ہی منٹ میں چترال کے اظہار علی خان نے شاندار گول اسکور کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی، جبکہ چند منٹوں بعد نصیر اللہ نے ایک اور گول کرکے چترال کی پوزیشن مستحکم کرلی۔
اس کے جواب میں گلگت بلتستان کی جانب سے ذوالفقار اور نازید نے ایک ایک گول کرکے اسکور برابر کردیا۔ میدان میں دونوں جانب کے کھلاڑیوں نے برق رفتار حملوں اور مضبوط دفاع کا مظاہرہ کیا، تاہم میچ کے پہلے ہاف کے اختتام تک چترال نے 5 اور گلگت بلتستان نے 4 گول اسکور کیے تھے اور چترال کو برتری حاصل تھی۔
میچ کا دوسرا ہاف انتہائی سنسنی خیز اور جارحانہ رہا۔ اس ہاف میں گلگت بلتستان نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے دو مزید گول اسکور کیے جبکہ چترال کی ٹیم دباؤ کے باعث صرف ایک گول کر سکی۔ دوسرے ہاف کے دوران کھیل اس قدر سخت تھا کہ چترال کی طرف سے نصیر اللہ اور ارباب، جبکہ گلگت بلتستان کی طرف سے اسلم اور ناصر زخمی ہونے کی وجہ سے میچ سے آؤٹ ہو گئے۔
مقررہ وقت کے اختتام پر اسکور برابر ہونے کے بعد میچ کا فیصلہ اضافی وقت (Extra Time) میں ہوا، جہاں گلگت بلتستان کے کھلاڑی نے فیصلہ کن گول اسکور کرکے اپنی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 6 گول سے فتح دلائی اور چترال یہ فائنل میچ محض ایک گول کے فرق سے ہار گئی۔
اگر میچ کے مجموعی اسکوررز پر نظر ڈالی جائے تو چترال کی طرف سے اظہار علی خان نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 گول کیے، جبکہ شہزاد احمد شاہ جی اور نصیر اللہ نے ایک ایک گول کیا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کی طرف سے ذوالفقار نے 3، نازید نے 2 اور شاہ اعظم نے 1 گول اسکور کیا۔ چترال کی ٹیم کی قیادت کپتان اسرار ولی خان کر رہے تھے اور دیگر کھلاڑیوں میں اظہار علی خان، شہزاد احمد شاہ جی، نصیر اللہ، اور امیر حمزہ شامل تھے، جبکہ گلگت بلتستان کی ٹیم میں شاہ اعظم، صدام، ذوالفقار، نازید، ناصر اور اسلم نے اپنے کھیل کے جوہر دکھائے۔
گول ہوتے ہی پورا میدان گلگت بلتستان کے حامیوں کے نعروں سے گونج اٹھا، اور روایتی پولو دھنوں (Polo Tunes) پر فاتح کھلاڑیوں اور شائقین نے چترالی اور شینا زبان کے گیتوں پر روایتی رقص کر کے جشن منایا، جس نے شندور کی سرد ہواؤں میں ایک عجیب گرماہٹ پیدا کر دی۔ دوسری جانب چترال کی ٹیم نے بھی غیر معمولی مہارت، جذبے اور سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا اور بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے میچ کو آخری لمحوں تک سنسنی خیز بنائے رکھا۔
فیسٹیول کا افتتاح گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی وزراء، وزیر اطلاعات شفیع جان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر معززین کے ہمراہ کیا۔ شندور آمد پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا شاہد احمد نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔
افتتاح کے ساتھ ہی فضا میں رنگ برنگے پیراشوٹ اور پیرا گلائیڈرز نمودار ہوئے، جبکہ مقامی فنکاروں نے چترال اور گلگت کے روایتی سازوں اور سروں سے سماں باندھ دیا۔
افتتاحی روز کے مقابلوں میں لاسپور لوئر چترال کی اے اور بی ٹیموں نے غذر گلگت بلتستان کی اے اور بی ٹیموں کو 9-0 سے شکست دی، جبکہ یاسین گلگت بلتستان نے مستوج کی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 8 گول سے ہرایا۔ دوسرے روز چترال ڈی، چترال بی اور سونا کلب نے کامیابیاں حاصل کیں جبکہ گلگت سی اور گلگت آفیسرز پولو ٹیمیں بھی فاتح رہیں۔
فائنل میچ کے مہمان خصوصی کور کمانڈرپشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری تھے جنہوں نے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔ گلگت بلتستان کے کھلاڑی صدام کو ان کی شاندار کارکردگی اور اہم ترین مواقع پر کھیل کو سنبھالنے پر "مین آف دی میچ” کے اعزاز سے نوازا گیا۔
شندور فیسٹیول نہ صرف ایک کھیل کا نام ہے بلکہ یہ چترال اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان محبت، بھائی چارے، ثقافتی ہم آہنگی اور مثبت مسابقت کی ایک خوبصورت علامت بھی ہے۔ کٹھن راستوں اور شدید موسم کے باوجود اس سال بھی ملک بھر سے ہزاروں شائقین اور بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح شندور کے عارضی خیمہ زن شہر (Tent City) میں مقیم رہے اور اس منفرد ثقافتی و کھیلوں کے میلے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ رات کے وقت کیمپ فائر، ستار کی دھنیں اور لوک گیت اس میلے کا ایک اور خوبصورت رخ تھے۔
اگرچہ فیسٹیول کو مجموعی طور پر کامیاب قرار دیا گیا، تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے بعض اہم امور پر گہرے تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا۔
کچھ افراد نے شندور روڈ کی خستہ حالی، انفراسٹرکچر کی کمی، ٹریفک کی بدامنی اور وی آئی پی کلچر پر کڑی تنقید کی، جبکہ ماحولیاتی کارکنوں نے اس خوبصورت ماحولیاتی نظام (Ecosystem) میں کچرے کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور صفائی کے ناقص انتظامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو خطے کے گلیشیئرز اور ندی نالوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح بعض مذہبی حلقوں نے کالاش خواتین کی ثقافتی سرگرمیوں اور رقص پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ دوسری جانب روشن خیال طبقے اور سیاحوں نے اسے خطے کی قدیم ترین ثقافتی شناخت، رنگینی اور صدیوں پرانی روایات کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے خوب سراہا۔
اس سال ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر انتظامی وجوہات کی بناء پر شندور فیسٹیول روایتی مہینے جولائی کے بجائے جون میں منعقد کیا گیا۔ ملک میں جاری حالیہ مہنگائی اور سفری مشکلات کے باوجود شائقین اور سیاحوں کا یہ بے پناہ ہجوم اس میلے کی عالمی مقبولیت اور اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
شندور نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ صرف پولو کا میدان نہیں بلکہ ثقافت، روایات، سیاحت، کھیل اور بھائی چارے کا ایک عظیم سنگم ہے۔
فیسٹیول کے اختتام پر گلگت بلتستان کے عوام اپنی 15 سالہ تاریخی فتح کا جشن منا رہے ہیں جبکہ چترال کے عوام اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی اور مہمان نوازی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔
کھیل میں ہار اور جیت اپنی جگہ، مگر شندور کا اصل پیغام دوستی، محبت، امن اور باہمی احترام ہے، جو ہر سال اس تاریخی ہندوکش کے پہاڑوں کے بیچ سے نکل کر پوری دنیا تک پہنچتا ہے۔