چلم جوشٹ — کالاش تہذیب و ثقافت کا رنگا رنگ تہوار/تحریر: بشیر حسین آزاد
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

کالاش وادیوں میں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہونے والے کالاش قبیلے کا مذہبی و ثقافتی تہوار "چلم جوشٹ” باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ پچھلے سالوں کی طرح امسال بھی یہ تہوار نہایت جوش و خروش اور رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ منایاجارہا ہے جس میں ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے علاوہ سینکڑوں غیر ملکی سیاح بھی شریک ہونگے ۔
چلم جوشٹ کالاش قبیلے کا قدیم مذہبی تہوار ہے، جو سردیوں کے طویل اور سخت دنوں کے اختتام اور موسم بہار کی آمد کی خوشی میں ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے بعد مال مویشیوں کو گرمائی چراگاہوں کی طرف منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی فراوانی بھی شروع ہوجاتی ہے۔ کالاش مذہب میں مال مویشیوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، اسی لیے یہ تہوار ان کی معاشرتی اور مذہبی زندگی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
تہوار کے دوران کالاش لوگ اپنے گھروں کو خوبصورت اور مخصوص پھولوں سے سجاتے ہیں۔ مذہبی رسومات کے مطابق دیوتا "مالوش” کے سامنے بکروں کی قربانی دی جاتی ہے جبکہ مہمانوں کی تواضع دودھ، پنیر اور دیگر روایتی اشیا سے کی جاتی ہے۔ ہر گاؤں میں ڈھول کی تھاپ پر مرد، خواتین، نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اجتماعی رقص کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس موقع پر کالاش خواتین خصوصی کشیدہ کاری سے تیار کردہ نئے روایتی لباس زیب تن کرتی ہیں اور سیپ و گھونگھوں سے تیار کردہ مخصوص ٹوپیاں پہنتی ہیں۔ مردوں اور بچوں کی تہوار کیلئے تیاری اور روایتی لباس بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، جو اس تہذیب کی خوبصورتی اور انفرادیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
چلم جوشٹ کا سب سے منفرد اور بڑی تقریب 16 مئی کو بتریک چھارسو میں منعقد ہوگا جہاں مختلف دیہات جن میں کراکال، برون، انیژ اور پڑوانندہ شامل ہیں، کے مرد و خواتین ڈھول بجاتے، گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے "چھارسو” میں داخل ہوں گے۔ یہ مقام کالاش ثقافت میں اجتماعی رقص اور تقریبات کیلئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر کالاش مذہبی پیشوا اور بزرگ اپنے مخصوص انداز میں گیتوں کے ذریعے قبیلے کی تاریخی روایات، بہادری کی داستانیں اور اسلاف کی خدمات نوجوان نسل تک منتقل کرتے ہیں۔
چلم جوشٹ تہوار میں اکثر اقلیتی ممبران اسمبلی، سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات بھی شرکت کرتی ہیں۔ گزشتہ برس دہشت گردی کے خدشات اور کورونا وبا ء کے باعث تہوار کی رونقیں ماند پڑگئی تھیں، تاہم اس سال پرامن ماحول میں تہوار کو بھرپور انداز میں منانے کی امید کی جارہی ہے۔
چلم جوشٹ تہوار کے کامیاب انعقاد میں ضلعی انتظامیہ، ٹی ایم اے چترال، چترال پولیس خصوصاً ٹریفک پولیس، سیاحتی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا کردار بھی نہایت اہم اور قابل ستائش ہوتا ہے۔ تہوار کے دوران سکیورٹی، ٹریفک کی روانی، صفائی ستھرائی، سیاحوں کی رہنمائی اور دیگر انتظامات کو بہتر انداز میں یقینی بنایا جاتا ہے، جس کی بدولت ملکی و غیر ملکی سیاح پر امن ماحول میں تہوار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
پچھلے سال بڑی تعداد میں غیر ملکی اور ملکی سیاح کالاش وادیوں میں مقیم رہے، جس سے مقامی آبادی، ہوٹل مالکان اور کاروباری افراد کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اس سال مہنگائی اور موسمی تبدیلیوں کے باعث سیاحوں کی تعداد نسبتاً کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، جس سے مقامی معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
کالاش تہذیب و ثقافت کی بقا میں حکومت پاکستان اور مقامی مسلم کمیونٹی کے تعاون اور تحفظ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جو دنیا بھر کیلئے مذہبی رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔
گزشتہ برسوں میں کالاش وادیوں کی سڑکوں کی خستہ حالی سیاحوں کیلئے بڑی مشکل بنی رہی، تاہم لواری ٹنل اپروچ روڈ کی تعمیر اور کالاش وادیوں کو جانے والی سڑکوں کی کشادگی کے بعد سفری مشکلات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔
سیاحوں کیلئے مشورہ ہے کہ وہ چلم جوشٹ تہوار میں شرکت کیلئے بڑی اور مضبوط گاڑیوں کا استعمال کریں کیونکہ بارشوں کے دوران ندی نالوں میں طغیانی کے باعث چھوٹی گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بلاشبہ چلم جوشٹ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ہزاروں سال قدیم تہذیب، ثقافت، روایات اور مذہبی ہم آہنگی کا زندہ مظہر ہے، جو دنیا بھر کے لوگوں کیلئے کشش اور دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔