غیرت ہے بڑی چیز/تحریر: محمد جاوید حیات

ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

اشتہارات

اکثر مذہبی علماء، مبلغین اور مذہبی لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ مومن کا مقصد آخرت ہے، دنیا نہیں۔ بے شک یہ قرآن و سنت میں بھی واضح ہے، لیکن اگر اسلامی تعلیمات اور قرآن کی روح پر غور کیا جائے تو اسلام مسلمانوں کو شیر (Tiger) بنانا چاہتا ہے۔

اللہ کے سوا کسی سے سوال کرنے کی ممانعت، حلال کمائی، محنت میں عظمت، غلامی سے نجات، ظلم کے خلاف جہاد، ظالم سے پوری قوت سے ٹکرانا، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے کی شناخت، صادق و امین، بے باک، قناعت کی دولت سے مالامال، سادہ زندگی، ہوسِ زر و مال سے پاک، لالچ اور کنجوسی سے بچا ہوا ہونا—یہ سب شیر کی صفات ہیں۔

اسلام نے دنیا چھوڑنے کی کبھی تعلیم نہیں دی، البتہ دنیا سے تعلق اللہ کے احکامات کے مطابق ہونا چاہیے۔ فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل ہو۔ اگر اسلام کا مقصد مسلمانوں کو ٹائیگر بنانا نہ ہوتا تو جہاد و قتال فرض نہ ہوتے، الکاسب کو اللہ کا دوست نہ کہا جاتا، اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر نہ کہا جاتا۔

حرکت کو اسلام کی روح نہ کہا جاتا، کم سونے، کم بولنے اور کم کھانے کو صفت قرار نہ دیا جاتا۔

رات کے پچھلے پہر اٹھنے اور اللہ کے حضور حاضری (نمازِ فجر) کو فرض قرار نہ دیا جاتا۔ قرآن میں اپنے گھوڑوں کو موٹا کرنے، اپنی تلواریں تیز کرنے، اپنی طاقت بڑھانے، اپنے آپ کو تیار رکھنے اور دشمن کو خوف زدہ کرنے کا حکم نہ ہوتا۔

جنگ اور دہشت تباہی ہے۔۔۔ نام نہاد دانشور یہ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں، مگر اگر غیر مسلم یہ سب کچھ کریں تو اسے جائز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور ایران ایٹم بم نہیں سنبھال سکتے، لیکن اسرائیل سنبھال سکتا ہے۔۔۔یہ کیسا معیار ہے؟

اسلام میں جہاد کو بقا کہا گیا ہے۔ اگر یہ ضروری نہیں، تو ٹرمپ برملا کیوں کہتا ہے کہ ہر چیز طاقت سے حاصل کی جاتی ہے؟ طاقت کے مقابلے میں طاقت اسلام کی روح ہے، مگر مسلمان امن اور انصاف کے علمبردار ہیں۔ اسلام کے نزدیک ہر انسان کو انصاف کے ساتھ جینے کا پورا حق ہے۔

رہبانیت اسلام میں حرام ہے۔ وہ بے آب و گیاہ صحرا کے شیر، جو بظاہر دنیا کی سہولیات اور عیاشیوں سے محروم تھے، مگر ظلم کی ہر چٹان سے دیوانہ وار ٹکراتے تھے۔

اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو یکسر رد نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو اپنے اہل و عیال سے محبت نہ فرماتے، کدو، جانور کے شانے کا گوشت اور دیگر کھانوں کو پسند نہ فرماتے، اپنے صحابہؓ کو محنت کی ترغیب نہ دیتے اور حلال رزق کمانے کو اہمیت نہ دیتے۔
اقبال نے مسلمان کا کیا خوب تعارف پیش کیا ہے؛
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

آج مسلمانوں کو جتنی دنیا کی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے بڑھ چکی ہے، اور مسلمانوں کو اس دوڑ میں شامل ہونا ہے۔ دنیا مقصد نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔ دنیا میں جینا ہے، زندہ رہنا ہے، اس لیے دنیاوی اسباب کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔

ہمارے سامنے عراق، شام، یمن، فلسطین اور لیبیا کی مثالیں ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران اور پاکستان کی بھی مثالیں موجود ہیں۔ اگر یہ دو ممالک میدانِ کارزار میں اترنے کی جرات کرتے ہیں، تو کس بنیاد پر؟ کیا صرف دعاؤں کی بنیاد پر یا دنیاوی طاقت کی بنیاد پر؟

آج ہمارے مذہبی لوگوں کو مسلم امہ کو شیر بننے کا وہ بنیادی اور پرانا سبق دوبارہ پڑھانا چاہیے، جسے یاد کر کے اس امت نے دنیا پر حکمرانی کی تھی۔ شہادت کی موت مومن کا تحفہ ہے اور شیروں جیسی زندگی اس کی پہچان۔