کابل اور پختونخوا۔۔۔ دو الگ تاریخیں/تحریر: فرہاد علی خاور

ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

اشتہارات

تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے جب ہم حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ پختونخوا کی تاریخ اور کابل کے سیاسی نشیب و فراز دو الگ راستے ہیں۔

سلطنتِ پختونخوا کی بنیاد 1520ء میں اس وقت پڑی جب یوسفزئیوں نے سوات، چارسدہ، مردان اور صوابی کے میدانی علاقوں کو فتح کر کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔

یہ وہ دور تھا جب کابل مغلوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور تیمور سے لے کر اورنگزیب تک کابل ہمیشہ مغلوں کے تابع رہا، جبکہ پختون اپنی آزاد اور خود مختار ریاست پختونخوا میں عزت اور وقار سے زندگی گزار رہے تھے۔

پختونخوا کے پختونوں کی حریت پسندی کا اندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کے دور میں جب مغلوں نے اس سرزمین پر قبضے کی کوشش کی تو انہیں ملندری کے مقام پر وہ عبرتناک شکست ہوئی جو تاریخ کا حصہ ہے۔

اس جنگ میں اکبر کے چالیس سے پچاس ہزار سپاہی، چودہ کمانڈر اور اکبر کا دستِ راست بیربل مارا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طویل جنگ میں کابل کا مشہور فوجی دستہ "التمش” مغلوں کے ہراول دستے کے طور پر اپنے ہی بھائیوں (پختونخوا) کے خلاف برسرِ پیکار رہا۔

1739ء تک کابل مغلوں کی غلامی میں زندگی گزارتا رہا، پھر نادر شاہ ایرانی کے زیرِ اقتدار رہا۔ 1747ء میں جب احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کی بنیاد رکھی، اس وقت بھی پختونخوا کے یوسفزئی مکمل آزاد تھے اور انہوں نے کبھی افغانستان کو باج (ٹیکس) ادا نہیں کیا، البتہ اسلامی اخوت کے ناطے وہ ابدالی کے دست و بازو بنے۔ پانی پت کی تیسری جنگ میں احمد شاہ ابدالی کی فتح دراصل یوسفزئیوں کی شجاعت اور بے مثال قربانیوں کی مرہونِ منت تھی۔

آج کچھ عناصر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ پختون اپنے وطن پاکستان میں فخر اور وقار کے ساتھ باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ صرف پنجاب میں تین ہزار پی ایچ ڈی سکالر پشتون ہیں جو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجاب کے لوگوں کو علم کے نور سے منور کرنے میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے سب سے اعلیٰ اور قابل ترین ڈاکٹر پشتون ہیں جو پاکستان کے بہترین ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی پشتون ہر میدان میں صفِ اول میں ہیں۔

اس وقت صرف کراچی میں آباد پختونوں کی تعداد افغانستان میں آباد پشتونوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کشمیر میں کروڑوں پختون عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

پاکستان ان غیور پختونوں کی جنت ہے جنہوں نے اسے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ ہمیں اپنی اس شناخت اور اپنے وطن پاکستان پر فخر ہے۔

کابلی تہذیب اور پختونخوا کی روایات میں وہی فرق ہے جو ایک مفتوحہ اور ایک فاتح قوم میں ہوتا ہے۔ پختونخوا کی پانچ سو سالہ تاریخ جرات، آزادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کی تاریخ ہے جبکہ افغانستان کی دو سو سالہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔

پختونوں نے اپنی سرزمین پختونخوا کے لیے طاقتور ترین قوتوں سے ٹکر لی لیکن کبھی اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

یہ تحریر نامور تاریخ دان اور محقق فرہاد علی خاور کی ہے جسے سوشل میڈیا سے حاصل کرکے قارئین کی دلچسپی کیلئے شائع کیا جا رہا۔