عقیدت کا سفر/تحریر: محمد جاوید حیات

اشتہارات

عقیدت کا سفر بیس دن کا تھا، مگر اگلے پچھلے دنوں کو ملا کر تقریباً تیس دن بن گئے۔ پاسپورٹ بنانے سے لے کر جہاز میں سوار ہونے، پھر جہاز سے اتر کر جائے سکونت پہنچنے تک کم از کم دس دن لگے۔ عقیدت کا سفر قیمتی لمحات کا ایک خزانہ تھا۔ ہم عمروں کو سالوں، مہینوں، دنوں اور پہروں میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن اس سفر میں بیتے لمحے خود ایک عمر تھے۔

عقیدت کے سفر میں جو جس انداز سے ساتھ رہا، اس کا ایسا مرتبہ دل میں بنتا رہا۔ پاسپورٹ بناتے ہوئے ڈائریکٹر کی شرافت اور مدد، ویزہ لگاتے ہوئے منیجر شندور ٹریول ایجنسی نقیب کی کوشش، سفر کی تیاری میں بچوں کی مدد اور انتظامات، حجاز مقدس گئے ہوئے ساتھیوں، خاص کر افسر غازی بھائی کا تجربہ اور رہنمائی، سب قابلِ تعریف تھے۔

چترال کے دور افتادہ گاؤں سے صبح سات بجے ٹھٹھرتی سردی میں گھر سے نکلتے ہوئے رشتہ داروں کو دعا دینے کی گزارش کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنا، لمبے سفر کی صعوبتوں کا خوف، عقیدت کی تشنہ لبی، حاضری کا جنون، یہ سب زادِ راہ تھے۔ چار دن پہلے لاواری کی دہشت کی وجہ سے پشاور پہنچنا، رشتہ داروں کا احترام اور چند کی بے رخیاں، بیگم کی ڈانٹ کہ اتنے دن پہلے کیوں آئے، یہ سب ناٹک تھا یا جنون کی بوقلمونیاں۔ مسافر کئی روز پہلے سے محوِ سفر تھا۔

سفر کی منزل کسی کو نہیں بتا رہا تھا، یا تعلّی ہو جائے یا مسافر کی حیثیت گھٹ جائے۔ سفر عقیدت کا تھا؛ اس میں ہر پل عقیدت کے مقام تھے۔ جب بچے مسافر کو ائیرپورٹ پر رخصت کر رہے تھے تو مسافر کو عقیدت کا یہ سفر تب بھی خواب لگ رہا تھا۔ ماں بیٹوں کو گلے لگا کر رو رہی تھی، مسافر سراپا عقیدت کھڑا تھا۔

مسافر کو پتا تھا کہ عقیدت کا سفر قربانیاں مانگتا ہے۔ انس رض والدین کو ٹھکراتا ہے۔ مکہ کی امیر ترین خاتون خود سنگلاخ چٹانوں سے ہوتی ہوئی اپنے شوہرِ نامدار کو دشوار ترین غار میں کھانا پہنچاتی ہے۔ ایک ہاتھ میں سورج، دوسرے ہاتھ میں چاند قبول نہیں کیا جاتا۔ بازو کٹ کر لٹک جائے تو علم تھوڑی اور گلے کے سہارے بلند کیا جاتا ہے۔ میدانِ جنگ میں کھجور کھاتے ہوئے کھجور پھینک دی جاتی ہے، کیونکہ وقت کھجور کھانے میں ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔ ماں کی ہدایت کے لیے دعا کرانے کے بعد گھر کی طرف دوڑا جاتا ہے کہ میں پہلے پہنچ جاؤں، کہ رسولِ مہربان ﷺ کی دعا پہلی پہنچ جائے۔ یہ عقیدت کا سفر ہے؛ یہاں جب زخمی حالت میں دشمن کے پیچھے چلنے کا حکم ہوتا ہے تو آہ و کراہ نعرۂ تکبیر میں بدل جاتی ہے۔

عقیدت کے سفر میں جس جس نے جیسا جیسا سلوک کیا، وہ یادوں کی اسکرین پر ثبت ہو گیا۔ عبید اللہ بونی نے بایومیٹرک میں مدد کی۔ بشیر حسین آزاد نے ریال اور سامانِ سفر کا بندوبست کیا۔ مکہ میں وزیر گل، جو چچا زاد ہیں، روز ملتے رہے؛ کھانا کھلانے سے لے کر زیارت کرانے تک ساتھ رہے۔ ان کا خلوص ان کے لیے دعا بن گیا۔

طاہر بھائی کو خدمت کرنے کا بڑا شوق ہے۔ ہم وطنوں کی خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر شام خود چائے بنا کر لاتے، پلاتے، ڈھارس بندھاتے، اور آخری شام سامان تک باندھ کر رخصت ہوئے۔ عبد المنان ریچوی ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں؛ تپاک سے مل کر ضیافت کا بندوبست کیا۔ ان سے مل کر دل کو سکون ملا کہ علاقے کا ہیرا ہے۔

مدینے کے حکیم بھائی حافظ شاکر اللہ خصوصی دعاؤں کے مستحق ٹھہرے۔ اپنا بھتیجا محمد حافظ اللہ، داماد بیٹے ریاض اور امتیاز اپنی خصوصی اور بے لوث محبت کے اظہار میں آگے رہے۔ عقیدت کے سفر میں پروفیسر فیاض، ماں جی اور بہن جی ساتھ تھیں؛ ان کی محبتوں نے سفر کو یادگار بنا دیا۔

ارضِ حجاز کا ذرہ ذرہ دل میں اتر رہا تھا۔ حدودِ حرم اور حدودِ مسجدِ نبوی میں ننگے پیر رہا۔ کبھی بیگم ننگے پاؤں چلنے کا پوچھتیں تو میں خاموش رہتا۔ ان تپتے صحراؤں کی خاک سرمہ تھی؛ آنکھیں چندھیا جاتیں مگر روح سیراب ہو جاتی۔

میدانِ بدر کو اکیلا نکلا۔ سردارِ دو جہاں ﷺ اور ان کے صحابہؓ کے پاؤں کی دھول لگتا ہے، اب بھی باقی ہے۔ وہی اونٹوں، گھوڑوں کا کارواں؛ وہی جمالِ مصطفوی ﷺ؛ وہی پاکیزہ روحوں کے جھرمٹ۔ یہ بے آب و گیاہ سرزمین رشکِ بریں ہے۔ حسرت ہوئی کہ ان پہاڑیوں نے وہ منظر دیکھے ہیں جب دونوں جہانوں کے سردار ﷺ اپنے اصحابؓ سمیت سفر پر ہوں گے۔ وہ فضائیں کتنی معطر ہوتی ہوں گی—وہ بادل، وہ بارشیں، وہ ہوائیں، وہ آندھیاں، وہ بہاریں، وہ خزاں، وہ چمکتا سورج، وہ چمکیلی چاندنی، وہ پرندے، چرندے، درندے—وہ سب بڑے خوش قسمت ہوئے ہوں گے۔ یہ نیلا گگن اور بے آب و گیاہ صحرائیں اس کے گواہ ہیں کہ دنیا میں فخرِ موجودات ﷺ کی آمد تھی اور وصال تھا۔

عقیدت کا سفر سراپا احساس تھا۔ جس نے جس انداز سے اپنے جذبات کو شیئر کیا، دعا کے مستحق ٹھہرے۔ ڈاکٹر فیضی صاحب نے آرٹیکل سراہ کر حوصلہ افزائی فرمائی۔ کتنے مہربانوں نے تبصرے کر کے دعاؤں میں شرکت کی استدعا کی۔ وزیر گل اور طاہر مکہ میں مسلسل ساتھ رہے۔ پروفیسر فیاض اور فیملی کا ساتھ رحمت سے کم نہ تھا۔ ضمیر ایبٹ آباد بھانجی کو لے کر ملنے آیا؛ ان کی شرافت دیدنی تھی۔

عقیدت کے سفر میں آخری صبح نمازیں پڑھنے اور الوداعی طواف کے بعد دل عجب دھڑکا۔ اسی گھر کا واسطہ دے کر التجا کی گئی کہ پھر اپنے گھر بلانا، پھر سے عرش سے نازک تر مقامات کی حاضری کا شرف عطا کرنا۔ آنکھیں حرم پر ٹکی ہوئی تھیں؛ بیگم نے جھنجھوڑا تو ہوش آیا۔ آنکھوں سے قطرے حرم کے پختہ فرش پر گرے، موتی بن گئے۔

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے

حرم سے نکل کر بوجھل قدم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے۔ میں نے بیگم سے کہا کہ آپ ذرا پیکنگ کریں، میں ایک چھوٹے سے کام پر باہر جا رہا ہوں۔ کام بہت بڑا تھا۔۔ زندگی کا مہا کام۔ عقیدت کی ایسی منزل جو واقعی منزل تھی۔

سر جھکائے سوئے حرم روانہ ہوا، سیدھا اس پختہ فرش پر پہنچا جو سرکارِ دو جہاں ﷺ کے گھر کے سامنے تھا۔ آنکھیں اس مکانِ رشکِ جنت پر ٹکا دیں۔ یہ لو، فخرِ موجودات ﷺ کعبے کے لیے گھر سے نکلے ہیں؛ یہ لو، بڑھیا گھر کے خس و خاشاک جمع کر کے کھڑکی سے ان پر پھینک رہی ہے؛ سرورِ انبیاء ﷺ خاموشی سے گزر رہے ہیں۔ وہ دروازہ کعبہ شریف کا موجود ہے جہاں سرکارِ دو جہاں ﷺ کعبے میں داخل ہوتے تھے۔ اپنے گھر کے اردگرد چچاؤں کے گھر ہیں، خاندان والوں کے گھر ہیں؛ زمزم کا کنواں ہے؛ صفا مروہ کا منظر ہے؛ دور دارالارقم ہے۔

پھر وقت کی بے وفائی تھی، جدہ کے لیے نکلنا تھا۔ اپنے بھائی وزیر کو بلایا، رخصت لی، اور دل اس منظر کے حوالے کر کے مٹی کا بت لے کر روانہ ہوا۔ ہوٹل میں سامان بندھا ہوا تھا۔ ظہر کی نماز ہوٹل کی مسجد میں پڑھی۔ سامان نیچے اتارا۔ سامان زیادہ تھے؛ ایک بریف کیس فیاض کے حصے میں آیا۔ بس میں سوار ہو کر درد سے پکارا: ربِ کعبہ، پھر بلانا!

جدہ ائیرپورٹ پر امیگریشن کے جھنجھٹ سے نکلے۔ ایک لمحہ ایسا آیا کہ جہاز کے ٹائر میری پاک سرزمین سے لگے۔ پشاور ائیرپورٹ پر افسر بھائی اپنے دو ماتحتوں اور گاڑی کے ساتھ آئے تھے۔ میری عقیدت میرا خواب تھا، ان کے وجود میں افسری کا خبط تھا؛ یہ بت توڑنا آسان کام نہیں۔ بھائی نے اپنی بھابی سے حال احوال پوچھا۔ اس نے تڑپ کر کہا: بھائی، ادھر ضرور جانا؛ دوڑ کر پہنچنا اور اپنی روح رحمت کے چشموں سے سیراب کرنا۔

گاڑی میں بیٹھ کر ایسا لگا کہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکا ہوں۔ پھر میرا پشاور تھا۔ جمعہ کی نماز تھی، پشاور کی جامع مسجد تھی۔