پاک افغان تعلقات؛ ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں/تحریر: عبدالمجیدقریشی
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

افغان مسئلے کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات طویل عرصے سے شدید نوعیت کے بحران کا شکار رہے ہیں۔ ان تعلقات میں بگاڑ کی بنیادی وجوہات دونوں ممالک کی سیاسی ترجیحات میں واضح فرق، باہمی اعتماد کا فقدان، اور علاقائی و عالمی طاقتوں کی مداخلت ہیں۔ اس حساس موضوع پر سنجیدہ بحث سے قبل ضروری ہے کہ افغانستان کی سیاسی تاریخ کا مختصر مگر جامع جائزہ لیا جائے، تاکہ حال کے مسائل کو ماضی کے تناظر میں بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
افغانستان میں 1933 میں ظاہر شاہ کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ چار دہائیوں پر محیط ان کا دور بظاہر استحکام کا حامل تھا، مگر 1973 میں ان کے چچا زاد بھائی سردار محمد داؤد نے تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔
صرف پانچ برس بعد، 1978میں، ثور انقلاب کے نتیجے میں کمیونسٹوں نے اقتدار سنبھالا اور نور محمد ترکئی صدر بنے۔ ڈیڑھ سال کے اندر ہی کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے دھڑے کے سربراہ اور وزیر دفاع حافظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
اس دور میں سیاسی انتشار، ریاستی جبر اور خانہ جنگی نے افغانستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا، حتیٰ کہ دسمبر 1979 میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں اور ببرک کارمل کو اقتدار میں بٹھایا گیا۔
سوویت مداخلت کے بعد افغانستان عالمی طاقتوں کے تصادم کا مرکز بن گیا۔ امریکہ، چین، پاکستان اور عرب ممالک کے تعاون سے افغان مجاہدین نے مسلح مزاحمت شروع کی۔ مجاہدین کی قیادت کا ایک بڑا حصہ سردار داؤد کے دور ہی سے پاکستان میں مقیم تھا۔
چونکہ اس جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت رکھتا تھا، اس لیے اس کا کردار اور فیصلے غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی، جس نے سوویت یونین سے اقوام متحدہ کے ذریعے مذاکرات کے بجائے مزاحمت کی حکمتِ عملی اپنائی۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ افغانستان کی جنگ نے سوویت یونین کو توڑ دیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ روس کے انہدام کی بنیادی وجہ اس کا ناکام معاشی نظام تھا، نہ کہ صرف افغان جنگ۔
پاک افغان تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ افغانستان نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے مختلف اوقات میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت، ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار (حالانکہ 1921ء میں افغان قیادت اسے تسلیم کر چکی تھی)، اور بعد ازاں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت۔ یہ سب عوامل دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کا سبب بنے۔
دوسری جانب، پاکستان نے بھی ثور انقلاب کے بعد افغان مجاہدین کو پناہ، سیاسی حمایت، سفارتی سہولتیں اور عسکری امداد فراہم کی۔ بلاشبہ، ان اقدامات نے دونوں ممالک کو ایک خفیہ جنگ کی طرف دھکیل دیا، جس کا نقصان دونوں اقوام کو اٹھانا پڑا، حالانکہ دونوں مسلم ممالک ہیں اور ان کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور سماجی رشتے گہرے ہیں۔
برطانوی دور میں افغانستان برصغیر اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ کے طور پر موجود رہا۔ برطانیہ کے انخلا کے بعد سوویت یونین نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی، حتیٰ کہ بلوچستان کے راستے بحیرۂ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواب دیکھا۔
اس مقصد کے لیے افغان طلبہ کو وظائف، فوجی افسران کو تربیت، اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا گیا۔ ظاہر شاہ روسی امداد تو لینا چاہتے تھے، مگر کمیونزم کے فروغ کے سخت مخالف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت قیادت نے انہیں راستے کی رکاوٹ سمجھا اور سردار داؤد کے ذریعے 1973میں اقتدار کی تبدیلی ممکن بنائی۔
سردار داؤد نے ملک کو جمہوری قرار دے کر سیاسی جماعتوں کو آزادی دی، جس سے روس نواز کمیونسٹ جماعتیں خلق اور پرچم کھل کر متحرک ہو گئیں، جبکہ اسلامی جماعتوں کے قائدین جیسے پروفیسر برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار کو پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی رہنما جان بچا کر پاکستان پہنچے۔
اسی دوران تعلیمی اداروں اور عوامی سطح پر ثور انقلاب کے خلاف بغاوت پھیل گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری پاکستان ہجرت پر مجبور ہوئے۔پاکستان کی حکومت اور عوام نےافعانستان کے مجاہدین اور دینی جماعتوں کے قائدین جنرل احمدشاہ مسعود، صبعت اللہ مجددی سمیت تمام مہاجر ین کی اپنی بساط بھر ضیافت اور مدد کی ۔
افغان مجاہدین کی قیادت نے پاکستان میں مختلف تنظیمیں قائم کیں، جن کی پاکستان نے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ مگر کسی متفقہ جلاوطن حکومت کے قیام میں ناکامی کے باعث مجاہدین آپس میں بھی برسرپیکار رہے۔
جنیوا مذاکرات میں بھی ان کی براہ راست نمائندگی نہ ہو سکی۔ اگر 1988ء میں جنیوا معاہدہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت اور مجاہدین کی جلا وطن قیادت کے درمیان ہوتا تو شاید اقتدار کا پُرامن انتقال ممکن ہو جاتا، مگر ایسا نہ ہو سکا، نتیجتاً افغانستان مزید چار برس تک لاقانونیت، ظلم اور طوائف الملوکی کا شکار رہا۔
مجاہدین کی عدم شمولیت نے معاہدے کو ادھورا اور کمزور بنا دیا۔ سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار کے پُرامن انتقال کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہ تھا، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر نجیب اللہ اور مجاہدین کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، اور افغانستان ایک نئے المیے کی طرف بڑھ گیا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی جنیوا معاہدہ تاریخ میں ایک کامیاب فوجی انخلا مگر ناکام سیاسی مفاہمت کی مثال سمجھا جاتا ہے۔
اسی انارکی کے ردِعمل میں طالبان تحریک نے جنم لیا، جس میں دینی مدارس کے پشتون طلبہ کی اکثریت شامل تھی۔ اس تحریک کی تشکیل و تقویت میں جنرل نصراللہ بابر، بعض پاکستانی اداروں، سی آئی اے اور سعودی عرب کا کردار بھی بیان کیا جاتا ہے۔ طالبان نے اقتدار میں آ کر پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا، مگر تمام نسلی و سیاسی قوتوں کو شریکِ اقتدار کرنے کے بجائے نظر انداز کیا۔ اس طرزِ حکمرانی نے خانہ جنگی کو مزید طول دیا اور لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔
طالبان دور میں جمہوریت، آزادیٔ اظہار، انصاف اور رواداری کے لیے کوئی گنجائش نہ چھوڑی گئی، نہ ہی رفاہِ عامہ کے منصوبوں پر توجہ دی گئی۔ اگر وہ عالمی برادری سے تعمیری تعلقات استوار کرتے اور ہمسایہ ممالک کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے تو شاید افغانستان کی تقدیر مختلف ہوتی۔
اس کے برعکس، علاقائی طاقتوں، خصوصاً بھارت، نے افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان مخالف سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی، جس سے پاکستان کے سلامتی خدشات مزید بڑھ گئے۔
پاکستان، ایک ہمسایہ اور ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے، افغانستان کی صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کا مفاد ایک پُرامن افغانستان میں ہے، تاکہ اس کی مغربی سرحد محفوظ رہے۔ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان کو دو سطحوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی: داخلی سطح پر سیاسی استحکام، اور خارجی سطح پر افغان طالبان سے براہ راست اور بالواسطہ سنجیدہ مذاکرات۔
آخر میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قوموں کی تقدیر جامد نہیں ہوتی۔ دانشمندانہ تدبیر، دوراندیش قیادت اور بروقت فیصلوں کے ذریعے تقدیر کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو اقوام تدبیر کی کنجی سے تقدیر کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، وہی مستقبل کی معمار بنتی ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار چترال کے سرحدی علاقے بمبوریت سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں۔