سوال پوچھنا جرم نہیں، شعور کی علامت ہے/اقبال عیسیٰ خان
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

سوال پوچھنے سے معاشرے میں بہتری آ سکتی ہے، سوال پوچھنا گناہ نہیں ہے، ایک زندہ معاشرے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں سوال پوچھنے کی روایت زندہ ہو۔
سوال محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ شعور کی دستک، فکر کی بیداری اور جمود کو توڑنے کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے سوال کو دبایا، انہوں نے ترقی کے دروازے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیے، اور جن اقوام نے سوال کو اپنایا، انہوں نے زوال کو چیلنج میں بدل دیا۔
ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں سوال پوچھنے کو بدتمیزی، بغاوت یا نافرمانی سمجھ لیا جاتا ہے۔ بچے سوال کریں تو کہا جاتا ہے خاموش رہو، طالب علم سوال کرے تو اسے بدتمیز کہا جاتا ہے، شہری سوال اٹھائے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ دراصل خوف کی علامت ہے، وہ خوف جو طاقت کو جواب دہ بننے سے گھبراتا ہے، وہ خوف جو سچ کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں رکھتا۔
سوال کے بغیر قیادت اندھی ہو جاتی ہے۔ سوال پالیسیوں کو بہتر بناتا ہے، اداروں کو مضبوط کرتا ہے اور نظام میں موجود خامیوں کو سامنے لاتا ہے۔ سوال دشمنی نہیں بلکہ بہتری کی نیت کا اظہار ہوتا ہے۔ جو لیڈر سوال سے ڈرتا ہے، وہ دراصل احتساب سے ڈرتا ہے۔
ایک دانشور جانتا ہے کہ علم کا آغاز ہی سوال سے ہوتا ہے۔ کیا، کیوں اور کیسے یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنہوں نے سائنس کو جنم دیا، فلسفے کو وسعت دی اور تہذیبوں کو نئی سمت دی۔ اگر سوال گناہ ہوتا تو انسان آج بھی غاروں میں رہ رہا ہوتا۔ سوال ہی نے انسان کو سوچنے، پرکھنے اور بہتر راستہ چننے کا ہنر سکھایا۔
جذباتی طور پر یہ بات بھی تکلیف دہ ہے کہ ہم نے آنے والی نسلوں کو سوال کرنے کے بجائے خاموش رہنے کی تربیت دی ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ مان لینا آسان ہے، پوچھ لینا خطرناک۔ مگر یاد رکھیے، خاموشی وقتی سکون دے سکتی ہے مگر دیرپا ترقی نہیں۔ سوال وقتی بے چینی پیدا کرتا ہے مگر مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔
سوال پوچھنا گناہ نہیں، سوال دبانا اصل گناہ ہے۔ سوال ایمان کو کمزور نہیں کرتا بلکہ یقین کو مضبوط کرتا ہے۔ سوال بغاوت نہیں بلکہ شعور ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں سوال کرنے والے کو باغی نہیں بلکہ ذمہ دار شہری سمجھا جائے، جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ بہتری کا ذریعہ مانا جائے۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط، منصف اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سوال سے دوستی کرنا ہوگی۔ کیونکہ سوال وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے، اور وہی چراغ قوموں کو زوال سے نکال کر عروج کی طرف لے جاتا ہے۔