آئس (شیشہ) — ایک مہلک نشہ

اشتہارات

آج کے دور میں آئس (شیشہ) کا نشہ نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیائی نشہ ہے جس کا پہلا استعمال ہی انسان کو غیر معمولی خوشی اور سرشاری کا احساس دیتا ہے۔

دماغ میں خوشی کے ہارمونز (Dopamine & Serotonin) کی غیر فطری سرگرمی کے باعث نشہ کرنے والا فرد وقتی طور پر انتہائی مسرور اور پرجوش محسوس کرتا ہے۔
آئس کا نشہ عام طور پر 36 سے 72 گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے۔

اس دوران نشہ کرنے والا فرد مسلسل جاگتا رہتا ہے، نیند اس سے چھن جاتی ہے اور جسمانی و ذہنی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ استعمال سے ملنے والی لذت آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے، اور اسی لذت کی تلاش میں فرد بار بار اور زیادہ مقدار میں آئس استعمال کرنے لگتا ہے۔

یہی وہ خطرناک مرحلہ ہے جہاں نشے کی لت (Addiction) انسان کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
آئس کا نشہ وقت کے ساتھ جسم کی ہڈیوں اور اعصاب کو متاثر کر دیتا ہے، یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور ذہنی امراض بڑھنے لگتے ہیں۔

نشہ کرنے والا شخص رشتوں، تعلقات اور سماجی ذمہ داریوں کی پہچان کھو بیٹھتا ہے، نشے کی حالت میں وہ کسی بھی وقت خطرناک اور ناخوشگوار واقعہ کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آئس استعمال کرنے والے پر اعتماد کرنا سراسر خطرہ ہے۔ یہ نشہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔

آئس کے عادی افراد کسی بھی وقت کوئی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے جو کہ سنگین نوعیت کا ہوگا مگر اس شخص کو خود اس کی سنگینی کا قطعاً احساس نہیں ہوتا۔

اس سطور کا مقصد نوجوانوں کو اس مہلک نشے سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور اپنے پیاروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔

آئس ایک ایسا ناسور ہے جس کے خلاف ہم سب کو مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس کے تدارک کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔